امریکہ کے بانی ’وحشت زدہ‘ ہو جائیں گے: ایپل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایپل کی جانب سے متعدد بار یہ کہا جا چکا ہے کہ آئی او ایس کے ایسے ورژن کی تیاری سے آئی فون کے لاکھوں صارفین کی سکیورٹی متاثر ہو گی اور یہ مثال بن جائے گی

آئی فون تیار کرنے والی امریکی کمپنی ایپل نے امریکی حکومت کی آئی فون کو ان لاک کرنے میں مدد کی درخواست کو قانون کے ساتھ ’کھینچا تانی‘ کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اِس سے امریکہ کے بانی ’وحشت زدہ‘ ہو جائیں گے۔

امریکی محکمہ انصاف نے سین برنارڈینو حملے میں ملوث ملزم رضوان فاروق کے آئی فون کو کھولنے میں مدد کا حکم جاری کیا تھا۔

انسانی حقوق کے چیف نے بھی ایپل کی حمایت کر دی

لیکن احکامات کے خلاف ایپل کمپنی کی جنگ جاری ہے، کمپنی کا موقف ہے کہ اِس سے ’خطرناک‘ مثال قائم ہو جائے گی۔

مقدمے کی سماعت وفاقی عدالت میں 22 مارچ کو ہو گی۔

گذشتہ سال دسمبر میں فاروق اور اُن کی اہلیہ نے کیلیفورنیا کے شہر میں فائرنگ کرکے 14 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے دونوں حملہ آوروں کو بھی ہلاک کردیا تھا۔

ایف بی آئی فاروق کے آئی فون میں موجود مواد تک رسائی چاہتی ہے لیکن فون لاک ہے اور اِس کو درست کوڈ کے اندراج سے ہی کھولا جا سکتا ہے۔

بار بار غلط کوڈ کا اندراج کرنے سے فون میں موجود مواد ضائع ہو جائے گا، جس کے بعد ایف بی آئی نے فون کو دُرست طریقے سے کھولنے میں مدد کے لیے ایپل سے درخواست کی تھی۔

ایپل کی جانب سے متعدد بار یہ کہا جا چکا ہے کہ آئی او ایس کے ایسے ورژن کی تیاری سے آئی فون کے لاکھوں صارفین کی سکیورٹی متاثر ہوگی اور یہ مثال بن جائے گی۔

ایف بی آئی کے عدالتی حکم نامے میں 1789 کے قانون کا حوالہ دیا گیا ہے، جو عدالت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کمپنیوں کو جرائم کی تفتیش میں مدد کرنے کے لیے مجبور کر سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ انکرپشن سمارٹ فون کو ’وارنٹ پروف‘ بنا سکتی ہے

لیکن حالیہ ردعمل میں ایپل کا کہنا ہے کہ محکمہ انصاف ’پالیسی اور سیاسی مسئلے کے حل‘ کے لیے قانون کا استعمال کر رہی ہے۔

’حکومت کے مطابق عدالت نجی فریقین کو یہ حکم دے سکتی ہے کہ جو ایف بی آئی اور محکمہ انصاف سوچ رہے ہیں اُس پر عمل کیا جائے۔‘

لیکن ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ انکرپشن سمارٹ فون کو ’وارنٹ پروف‘ بنا سکتی ہے۔

یکم مارچ کو ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے کا کہنا تھا کہ ’اِس ملک کے آغاز سے ہی یہ بات طے ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مناسب اطلاع پر اور نگرانی کے لیے آپ کے گھر میں داخل ہو سکتے ہیں۔ میرے لیے اِس منطق کا مطلب یہ ہے کہ اُنھوں نے کسی ڈبے یا سٹوریج ایریا یعنی ذخیرہ کرنے والے علاقے کا تصور تک نہیں کیا، جس میں وہ داخل ہو سکیں۔‘

انھوں نے کہا: ’ایک ایسے معاشرے میں جہاں ہم محفوظ رہنا چاہتے ہوں، جہاں اپنے اہل خانہ اور بچوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہوں ، وہاں پرائیویسی کے متعلق ایک بنیادی اقدار کے طور پر بات کرنا بہت دلفریب لگتا ہے جو کہ حقیقت میں نہیں ہو سکتی تو ہمیں دونوں کو ساتھ ملانے کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا۔‘

اسی بارے میں