خون کی روانی کی سِمولیشن کا عمل مکمل

تصویر کے کاپی رائٹ A Randles Duke University

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں خون کی روانی کی سِمولیشن کا عمل ایک سپرکمپیوٹر کے ذریعے مکمل کر لیا گیا ہے جو انسانی جسم میں خون کے حقیقی بہاؤ سے بڑی حد تک مماثلت رکھتا ہے۔

اس سافٹ وئیر میں انسانی جسم کی ہر شریان کی نمائندگی تھری ڈی کے ذریعے سے کی گئی ہے۔

اِس نظام کو اس وقت ابتدائی کامیابی ملی جب سائنس دانوں نے ورچوئل ایورٹا یعنی بڑی شریان میں خون کے بہاؤ کا موازنہ اِس کی تیار کی گئی تھری ڈی نقل میں حقیقی سیال سے کیا۔

مصنوعی شریان میں سیال کی روانی کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ سمولیشن کے لیے اچھی مطابقت رکھتی ہے۔

یہی صورت حال اُس وقت بھی تھی جب سیال کو پلاسٹک سے بنی شریان اور ورچوئل خون کو مصنوعی بڑی شریان سے گزارا گیا۔ اس وقت یہ دھڑکن کی صورت میں اُسی طرح سے منتقل ہو رہا تھا جیسے دل خون کو جسم میں رواں رکھنے کا کام انجام دیتا ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور شمالی کیرولائنا کی ڈیوک یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر امینڈا رینڈلز نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’ہمیں مسلسل بہاؤ اور دھڑکن کے حوالے سے بہت اچھے نتائج مل رہے ہیں جو بہت دلچسپ ہیں۔‘

وہ اِن نتائج کو، جس میں تھری ڈی پرنٹڈ شریان کا موازنہ بھی شامل ہے، رواں ہفتے بالٹی مور میں ہونے والے امریکن فزیکل سوسائٹی کے مارچ کے اجلاس میں پیش کریں گی۔

پہلی بار مکمل ورچوئل جسم گذشتہ برس نومبر میں منعقد ہونے والی کمپیوٹر سائنس کی کانفرنس میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اِس جسم کو 17 صدی کے سائنس دان ولیم ہاروی کو خراج عقیدت پیش کرنے لیے ’ہاروی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ولیم ہاروی وہ پہلے سائنس دان تھے جنھوں یہ دریافت کیا تھا کہ خون انسانی جسم میں گردش کرتا رہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Kim Baxter...Cambridge University Hospitals...PA

اس نظام کی بنیاد ایک تھری ڈی فریم ورک پر رکھی گئی، جسے ایک مریض کے تمام جسم کے مکمل سی ٹی اور ایم آر آئی سکین کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔

نمونہ سازی کا یہ عمل کیلیفورنیا کی لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری میں سپرکمپیوٹر پر انجام دیا گیا۔

ڈاکٹر رینڈلز ہاورڈ یونیورسٹی میں فزکس میں پی ایچ ڈی کرنے سے قبل آئی بی ایم میں سپر کمپیوٹنگ پر کام کرتی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اِس سپر کمپیوٹر میں 16 لاکھ پروسیسر نصب ہیں۔‘

اِس پروجیکٹ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اِس بات کی جانچ کی جائے کہ دل کی بیماری میں مختلف علاج، مثلاً سٹنٹ یا دوسرے سرجیکل آلات کیسے بہتر طریقے سے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں