دبئی میں حاملہ خواتین کا شیشہ کیفوں میں داخلہ ممنوع

Image caption پوسٹروں پر یہ بھی واضح انداز میں تحریر ہے کہ 18 سال سے کم عمر اور چھوٹے بچوں کی ماؤں کا اندر داخلہ ممنوع ہے

اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں شیشہ کیفوں میں حاملہ خواتین کا داخلہ ممنوع قرار دیا گيا ہے۔ یہ پابندی تمام خواتین پر عائد کی گئی چاہے وہ تمباکو نوشی کا ارادہ رکھتی یا نہیں۔

گلف نیوز ویب سائٹ کے مطابق یہ قدم ایک نئی عوامی صحت کی مہم کا حصہ ہے جس کے تحت حاملہ خواتین کو تمباکو نوشی سے پاک جگہوں تک محدود رکھنا ہے۔

اس مہم کی تشہیر کے لیے ریاست کے کیفوں کے داخلی راستوں پر دورازے کے حجم کے پوسٹرز آویزاں ہیں جہاں لوگ مخصوص قسم کے حقّہ پائپ پینے کے لیے جاتے ہیں۔

اِن پوسٹروں میں تحریر عبارت میں حاملہ خواتین سے اُن کے ہونے والے بچوں کی جانب سے کہا جارہا ہے ’تمباکو نوشی آپ کی پسند ہوسکتی ہے! میری نہیں۔‘

پوسٹروں پر یہ بھی واضح انداز میں تحریر ہے کہ 18 سال سے کم عمر اور چھوٹے بچوں کی ماؤں کا اندر داخلہ ممنوع ہے۔

دبئی کے عوامی صحت اور تحفظ کے محکمے کے ڈائریکٹر مروان المحمود نے ویب سائٹ کو بتایا کہ ’اس پر بات چيت نہیں ہوسکتی۔‘ انھوں نے کہا کہ ماٰضی میں مینجروں نے کیفے میں خواتین کو داخل ہونے سے روکنے کے حوالے سے بے اختیار ہونے کی شکایت کی۔

ان کا کہنا تھا ’جب اس حوالے سے کوئی سرکاری قوانین موجود نہیں تھے تو خواتین اِن میں داخل ہوسکتی تھیں۔ بلکہ اُس وقت بطورِ گاہک اس احاطے میں داخل ہونا اُن کا حق تھا۔‘

سنہ 2014 میں تمباکو نوشی کے حوالے سے متحدہ عرب امارات میں سخت قوانین نافذ کیے گئے تھے جن کے تحت تمباکو کے اشتہار پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور اگر کار میں 12 سال سے کم عمر کا بچہ موجود ہو تو اس میں تمباکو نوشی غیر قانونی ہوگی۔

نئے قوانین میں شیشہ خانوں کو رہائشی علاقوں، سکولوں اور عبادت گاہوں سے دور رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

اسی بارے میں