کیا اسرائیلی کمپنی آئی فون ان لاک کرسکتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ CELLEBRITE
Image caption سیلیبرائٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ایف بی آئی کے ساتھ کام تو کرتے ہیں لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں کہیں گے

اسرائیل کی سائیبر سکیورٹی کی کمپنی سیلیبرائٹ پر یہ بتانے کے لیے دباؤ ہے کہ کہیں وہی تو ایف بی آئی کے لیے آئی فون سے ڈیٹا نکالنے کے کام میں ملوث تو نہیں ہے۔

پیر کو ایف بی آئی نے بتایا تھا کہ شاید اسے ایک ایسا راستہ مل گیا ہے جس سے وہ سید رضوان فاروق کے آئی فون کو ان لاک کرکے ڈیٹا حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

گذشتہ سال دسمبر میں ریاست کیلفورنیا کے علاقے سان برناڈینو میں رضوان فاروق اور اُن کی اہلیہ نے فائرنگ کر کے 14 افراد کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ پولیس کی جوابی کارروائی میں وہ دنوں بھی مارے گئے تھے۔

ایف بی آئی چاہتی تھی کہ آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل رضوان کے فون کے ڈیٹا تک رسائی میں اس فون کو ان لاک کرنے میں مدد کرے لیکن اپیل کمپنی نے ایسا کرنے سے منع کر دیا تھا۔

ایپل کا کہنا تھا کہ اس حکم پر عمل پیرا ہونے سے ایک ’خطرناک روایت‘ قائم ہو گی۔ اب یہ معاملہ عدالت میں ہے۔

لیکن ایف بی آئی نے جب یہ اعلان کیا کہ ماہرین کا ایک اور گروپ ان کی مدد کے لیے تیار ہے اس کے بعد اسرائیل کے ایک اخبار نے اطلاع دی کی سیلیبرائٹ کمپنی میں فورینسک ڈیٹا کے ماہرین ہی اس میں ملوث ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایپل کا کہنا تھا کہ فون کھولنے سے ایک ’خطرناک روایت‘ قائم ہو گی

سیلیبرائٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ایف بی آئی کے ساتھ کام تو کرتے ہیں لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں کہیں گے۔

کمپنی کی ویب سائٹ پر یہ بات ضرور لکھی ہوئی ہے کہ اس کے بعض ٹولز دیگر فون کی طرح ہی آئی فون 5 سی سے بھی ڈیٹا حاصل کر سکتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ فون کے اسی ماڈل سے ڈیٹا نکالنے کی بات ہورہی ہے۔

سیلیبرائٹ کی سائٹ پر درج ہے کہ ’عام قسم کے یا پھر پیچیدہ پاس کوڈ کے ذریعے لاک کیے گئے آئی او ایس ڈیوائسز سے فائل سسٹم کو نکالنے، ڈی کوڈنگ اور تجزیہ کرنے کا کام کیا جا سکتا ہے۔‘

اسرائیلی اخبار کا کہنا ہے کہ سیلیبرائٹ، جو جاپان کی سن کارپوریشن کی ایک ذیلی کمپنی ہے، نے 2013 میں فورینسک ڈیٹا کے لیے ایف بی آئی کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا تھا۔

ایف بی آئی اس بات کا تو برملا اظہار کر چکی ہے کہ ڈیٹا کی رسائی تک اسے ایک بیرونی فریق مدد کر رہا ہے لیکن اس نے بھی یہ نہیں بتایا کہ کون سے ماہرین یا کمپنی سے اسے تعاون مل رہا ہے۔

بیورو کے ترجمان کرسٹوفر ایلن نے بی بی سی کو بتایا ’میں دوسرے فریق کی شناخت پر کوئی بھی تبصرہ نہیں کر سکتا۔ میں صرف پیر کے روز عدالت کے اس بیان کا حوالہ دوں گا جس میں اس نے دوسرے فریق کی جانب سے فون کھولنے کے طریقوں کی بات کا ذکر کیا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایف بی آئی اس بات کا برملا اظہار کر چکی ہے کہ ڈیٹا کی رسائی تک اسے ایک بیرونی فریق مدد کر رہا ہے

سیلیبرائٹ کمپنی کو میڈیا کی جانب سے بہت سے فون آئے ہیں اور سب اس سے یہی پوچھ رہے ہیں کہ کیا حقیقت میں وہی فون کھولنے میں ایف بی آئی کی مدد کر رہی ہے۔

لیکن اس کی وضاحت کرنے کے بجائے کمپنی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ وہ آگے چل کر اس بارے میں کچھ مزید کہہ سکیں۔

اس سے قبل استغاثہ نے کہا تھا کہ ’بیرونی فریق‘ نے ایپل کی مدد کے بغیر آئی فون کو ان لاک کرنے کے بارے میں بتایا ہے۔

عدالت کو فراہم کی گئی معلومات میں استغاثہ نے کہا تھا کہ ’تجربے سے پتہ چلے گا کہ فاروق کے آئی فون کے ڈیٹا کو ضیاع سے بچانے کا یہ صحیح طریقہ ہے۔‘

اسی بارے میں