انڈیا میں کھانسی بخار کی عام دواؤں پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ہندوستان کی حکومت نے 300 سے زیادہ ’فكسڈ ڈوز كمبینیشنز' پر پابندی لگائی ہے جس کی وجہ سے کئی دواؤں کی فروخت اب غیر قانونی ہوگی

انڈیا میں بہت سی دواؤں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ان میں سے کچھ ایسی ہیں جو سر درد، زکام، بخار کے لیے لوگ خود ہی کیمسٹ سے لے آتے ہیں۔

کچھ ایسی دوائیں بھی ہیں جنہیں آپ شوگر، ڈپریشن یا اینٹي بائیوٹک کے طور پر ڈاکٹر کے مشورہ سے خریدتے ہیں۔

دراصل انڈیا کی حکومت نے 300 سے زیادہ ’فكسڈ ڈوز كمبینیشنز‘ پر پابندی لگائی ہے جس کی وجہ سے کئی دواؤں کی فروخت اب غیر قانونی ہوگی۔

دو یا اس سے زیادہ دواؤں کو ملا کر تیار کی گئی یا ایسی مرکب دوا کو ’ایف ڈي سي‘ یعنی’'فكسڈ ڈوز کمبینیشن دوا‘ کہا جاتا ہے۔

حکومت کے حکم کے مطابق ‎‎’بہت سی ایف ڈي سي میں منشیات کے مرکب کی بنیاد سائنس پر نہیں ہے اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے جوابات کو دوبارہ جانچنے کے بعد بھی عوامی مفاد میں حکومت کے پاس ان پر پابندی لگانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔‘

بعض وہ دوائیں جن پر پابندی نافذ کی گئی ہے مندرجہ ذيل ہیں۔

سومو، نسپ پلس: بخار اور درد کے لیے۔

بیناڈريل شربت، یلیکس شربت، كوریكس شربت : کھانسي کے لیے۔

ڈی کولڈ ٹوٹل، وكس ایکشن :00 - موسم سرما میں، زکام اور کھانس کے لیے

چیسٹ آن، سی 2 کولڈ، پلینوكف ڈی، اوكاسٹ کولڈ : زکام

ٹراگيولن، گلوكونارم ، یمرل پی 1 اور پی 1: شوگر کے لیے

پائيوپلس 2، گلائمیسٹر پی، گلائیمیا ڈے پی 1 اور پی 2 : شوگر کے لیے

بیسجل این شربت : اسہال کے لیے

اورنوف ٹیبلٹ اور شربت : يورینري ٹریكٹ انفیكشن کے لیے

میٹروجیل پی: مرحم چوٹ اور زخم کے لیے

ڈیپسل فورٹ : ڈپریشن کے لیے

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

اس فیصلے کی مخالفت میں دوا بنانے والی کمپنیاں دہلی ہائی کورٹ گئی ہیں۔ فی الحال کورٹ نے کچھ دنوں کے لیے حکومت کے اس فیصلے پر روک لگا دی ہے۔

حکومت کے اس فیصلے پر ’انڈین ڈرگ مینفیكچررز ایسوسی ایشن‘ کے صدر اے ایسويويرامي کہتے ہیں ’حکومت نے یہ پابدي من مانے طریقے سے لگائی ہے۔‘

بی بی سی سے بات چیت میں انہوں نے کہا ’ایف ڈي سي دواؤں کے برے اثرات نہیں ہوتے، بلکہ یہ مریض کی سہولت کے لیے ہے کہ انہیں ایک ہی دوا میں کئی علاج مل جائیں، بیرون ملک میں بھی ایسی ادویات کو فروخت کیا جاتا ہے۔‘

دوسری طرف ’ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈر‘ کی علاقائی کنوینر لینا میگھانے کہتی ہیں ’دواؤں کو ملا کر بنائے جانے والی ایف ڈي سي سے مریضوں کے جسم میں ایسی تبدیلی آنے کا امکان ہوتا ہے جس سے ان پر یہ دوائیں اثر کرنا ہی بند کر دیں اس لیے یہ پابندی ضروری ہے۔‘

اسی بارے میں