’چاند پر اترنے سے مصنوعی ذہانت کا خیال آیا‘

Image caption جس بات نے انھیں مصنوعی ذہانت تخلیق کرنے کے لیے متاثر کیا وہ سنہ 1969 میں چاند پر پہنچنے کی تصویر تھی

دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے زیر استعمال مصنوعی ذہانت کے تخلیقی عمل میں حصہ لینے والے کواک لی کا تعلق ویتنام کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے، جہاں نو سال کی عمر تک انھیں بجلی جیسی بنیادی سہولت بھی میسر نہیں تھی۔

32 سالہ لی معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کی گوگل برین (دماغ) ٹیم کا حصہ ہیں۔ یہ خصوصی ٹیم کمپیوٹروں میں انسانی عصبی نظام سے مماثل نظام تخلیق کرنے کے لیے کوشاں ہے، یا کم از کم ایسا نظام جو کم وبیش ان ہی بنیادی اصولوں پر کام کر سکے۔

* کیا مشینیں ہم پر غالب آ جائیں گی؟ * کیا ہمارے بچے ہم سے زیادہ ذہین ہیں؟

یہ گوگل کی جانب سے مصنوعی دماغ کی تخلیق کی کوشش ہے۔

یہ مکمل انسانی اوصاف کی حامل ایسی مشین نہیں ہوگی جو ہم عموماً تصور کرتے ہیں، جو خودکار طریقے سے سوچنے کی صلاحیت رکھتی ہو تاہم یاد رہے کہ گوگل کی مصنوعات میں ’ذہانت‘ کا عنصر پہلے ہی شامل ہے۔ ایسی ٹیکنالوجی جس کے بارے میں لی اپنے بچپن میں صرف تصور کرسکتے تھے۔

لی کو اپنے گاؤں تھوئے ڈونگ میں آنے والی بتدریج تبدیلیاں آج بھی یاد ہیں۔ وہ لمحات جب گاؤں میں پہلا ٹیلی وژن سیٹ آیا تھا، جب انھوں نے پہلی بار گاڑی دیکھی تھی، جب ان کے گھر والوں نے پہلا چاول پکانے والا کُکر خریدا تھا۔

لی بتاتے ہیں ’اس زمانے میں جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی ہماری زندگی میں شامل ہوتی تھی وہ ہماری زندگیاں ہی تبدیل کردیتی تھی۔‘

تاہم جس بات نے انھیں مصنوعی ذہانت تخلیق کرنے کے لیے متاثر کیا وہ سنہ 1969 میں چاند پر پہنچنے کی تصویر تھی۔

لی کہتے ہیں ’میرے ذہن میں سوال تھا، زمین پر ہم سب سے تیز رفتار جانور نہیں ہیں، ہم اُڑ بھی نہیں سکتے، لیکن اس کے باوجود ہم کسی نے کسی طرح چاند تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ہمارے اندر وہ ایک صلاحیت کون سی ہے جو دوسرے جانوروں میں نہیں ہے؟‘

’اور پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ دماغ کی وجہ سے ہے، یہ ذہانت ہے۔‘

وہ سمجھے کہ ذہین مشینیں عام ہوچکی ہوں گی، تاہم بعد میں انھیں معلوم ہوا کہ ایسا نہیں تھا۔

لی مسکراتے ہوئے بتاتے ہیں ’پھر میں نے فیصلہ کیا کہ شاید مجھے ہی ایسی مشین بنالینی چاہیے۔‘

لی نے مشینی ذہانت پر تحقیق کا آغاز اس وقت کیا جب وہ آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے، پھر امریکہ کی سٹینفرڈ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے امیدوار کے طور پر بھی اس موضوع پر انھوں نے کام جاری رکھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ انھیں یہ بات بہت مایوس کرتی تھی کہ خود سیکھنے والے سافٹ ویئر میں بھی انسانوں کو بہت ساری معلومات داخل کرنی پڑتی تھی۔

وہ کہتے ہیں ’ایسی مشینیں جن کے بارے میں ہم ذہین ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ان میں بھی ہمیں بہت وقت لگا کے کوڈز کے ذریعے فیصلے داخل کرنے پڑتے ہیں۔ میں ہر چیز خودکار چاہتا ہوں۔‘

یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایسے سافٹ ویئر پر کام شروع کردیا جو خودکار طریقے سے نئی معلومات سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

سنہ 2012 میں لی کی سربراہی میں گوگل کی جانب سے ایک تجربہ کیا گیا جس میں یہ جانچنے کےلیے کہ مصنوعی عصبی نظام خود سے کتنا سیکھ سکتا ہے اسے یو ٹیوب ویب سائیٹ پر موجود ویڈیوز دکھائی گئیں۔

تجزیے سے معلوم ہوا کے مصنوعی عصبی خلیوں میں سے ایک، بقول لی کہ، بلی کی ایک تصویر دیکھ کے ’بہت خوش‘ ہوا تھا۔ جبکہ پہلے سے نہ تو بلی کے بارے میں کوئی معلومات داخل کی گئی تھی کہ بلی کیا ہوتی ہے اور نہ ہی کسی تصویر پر بلی تحریر تھا۔

Image caption لی چاہتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آئے جب ٹیکنالوجی ایسی مصنوعی ذہانت میں تبدیل ہوجائے جیسی سنہ 2013 کی معروف انگریزی فلم ’ہر‘ میں دکھائی گئی ہے

اس تجربے کی روشنی میں ایک اہم ترین پیش رفت سامنے آئی کہ مشینیں انسانوں کی جانب سے وسیع اور درست ترین معلومات داخل کیے بغیر بھی سیکھ سکتی ہیں۔

سنہ 2014 میں برطانیہ کی ایک کمپنی ڈیپ مائنڈ حاصل کرنے کے بعد گوگل کی ایک ٹیم ایسی مشین پر کام کر رہی ہے جو کمپیوٹر گیمز سیکھتی ہے۔

گذشتہ ہفتے اس ٹیم کے تیار کردہ کمپیوٹر نے چین کے قدیم ترین کھیلوں میں شمار ہونے والے کھیل’گو‘ کے عالمی چیمپیئن کو ہرا دیا تھا۔ بے حساب ممکنہ چالوں کے باعث کمپیوٹرز کے لیے اس کھیل میں مہارت حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

فیس بُک، مائیکروسوفٹ، اور چین کی کمپنی بیدو سمیت دیگر کئی کمپینوں نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں گہرائی سے جاننے اور اس کی مختلف اقسام پر تحقیق کے لیے سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

لی چاہتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آئے جب ٹیکنالوجی ایسی مصنوعی ذہانت میں تبدیل ہوجائے جیسی سنہ 2013 کی معروف انگریزی فلم ’ہر‘ میں دکھائی گئی ہے۔ اس فلم میں کمپیوٹر کا آپریٹنگ سسٹم ایک ذاتی معاون کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔

لی کہتے ہیں ’میں ایسی مشین بنانا چاہتا ہوں جو دیکھ سکے، جو سن سکے، اور سمجھ سکے۔‘ تاہم وہ یہ بات بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ابھی اس میں خاصا وقت ہے۔

گذشتہ پانچ سالوں میں ان کی اہم کامیابی یہ کہ وہ مصنوعی ذہانت دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچا سکے ہیں جن میں ویتنام میں ان کے اپنے گاؤں کے لوگ بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں