یوگینڈا میں بلبوں سے زیادہ موبائل فون؟

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

یوگینڈا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس ملک میں روشنی کے بلبوں سے زیادہ موبائل فون ہیں۔ یہ خیال آیا کہاں سے اور کیا اس بات میں کوئی سچائی ہے؟

2009 میں صحافی ڈارا کیر نے یوگینڈا کے بارے میں لکھا اور کہا کہ ’یہ ایسی جگہ ہے جہاں شاید روشنی کے بلبوں سے زیادہ سیل فون موجود ہیں۔‘ یہ پہلی بار تھی جب اس طرح کا موازنہ کیا گیا تھا۔

اگرچہ اس بات پر دھیان دینا چاہیے کہ اس مضمون میں کیر نے اس بات پر زور دیا تھا کہ یہ بات ممکنہ طور پر یقینی ہے لیکن اسے اتنی دفعہ دہرایا جا چکا ہے کہ ’ممکنہ‘ سے اب یہ بات حقیقت میں تبدیل ہو گئی ہے اس حد تک کہ ٹیلی فون کمپنی ووڈا فون نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔

ایک یوگینڈن وکیل جیرالڈ ابیلا کا کہنا ہے کہ ’پہلی بار میں نے 2014 میں کمپالا میں ایک ای کانفرنس میں اس کے بارے میں سنا اور سن کر مجھے حیرت ہوئی۔‘ اس کی حقیقت جاننے کے لیے انہوں نے اعداد و شمار اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔

یوگینڈن کمیونکیشنز کمیشن کے مطابق ملک میں دو کروڑ 26 لاکھ موبائل فون رجسٹرڈ ہیں۔ ایک تحقیقاتی ادارے جی ایس ایم اے انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دو کروڑ 26 لاکھ فون موجود ہیں، بلکہ اصل میں یہ سم کارڈوں کی تعداد ہے۔ سم کارڈ کی تعداد سے موبائل فون کے استعمال اور مالکوں کی تعداد کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔ بہت سے ملکوں میں یہ تعداد آبادی کے 100 فیصد سے بھی زیادہ ہے بلکہ کچھ میں تو 200 فیصد تک ہے۔

یوگینڈا میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کے پاس اوسطاً ایک سے زیادہ سم کارڈ ہوتا ہے۔ عام طور پر ایک ہی موبائل میں دو سموں کا استعمال ہوتا ہے، صارف کبھی ایک نیٹ ورک کا کارڈ ڈالتے ہیں تو کبھی دوسرے کا، تاکہ مختلف نیٹ ورکس کی ڈیلز کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔

اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے دیور کا خیال ہے کہ یوگینڈا میں موبائل فونز کی اصل تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ کے لگ بھگ ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption کتنے لوگ کتنے بلب استعمال کرتے ہیں اور کتنے موبائل فون؟ اس بارے میں صرف اندازے ہی لگائے جا سکتے ہیں

اس کے بعد ابیلا نے اپنی توجہ لائٹ بلبوں پر مرکوز کی۔ یوگینڈا نیشنل ہاؤس ہولڈ 2012/2013 کے سروے کے مطابق ملک میں 72 لاکھ 20 ہزار گھرانے ہیں جن میں سے 14 فیصد گھروں میں روشنی کے لیے بجلی استعمال کی جاتی ہے۔ اس طرح تقریباً دس لاکھ گھروں میں بجلی کی روشنی ہے۔

کتنے لوگ کتنے بلب استعمال کرتے ہیں، اس بارے میں کوئی مستند معلومات موجود نہیں ہیں، اس لیے ابیلا کو اندازوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ ابیلا نے اندازہ لگایا کہ گھر میں جتنے افراد ہوتے ہیں تقریباً اتنے ہی بلب ہوں گے۔ لیکن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر گھر میں چار سے زیادہ لوگ رہتے ہیں تو ابیلا نے آسانی کے لیے ہر گھر میں پانچ افراد کا نمبر سامنے رکھتے ہوئے اندازہ لگایا کہ ملک میں کل 50 لاکھ بلب ہوں گے۔

اس اندازے کو سامنے رکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ہر گھر میں بلبوں کے نسبت موبائل فون تین گنا زیادہ ہیں۔

اس کے مقابلے میں 2011 میں برطانوی گھروں میں 60 کروڑ لائٹ بلب استعمال میں تھے اور 2014 کے آخر تک آٹھ کروڑ 99 لاکھ موبائل سبسکرپشنز تھیں۔

ابیلا اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یوگینڈا کے حوالے سے موبائل فون اور بلب کا حساب شاید درست نہیں ہے کیونکہ اس میں دفاتر، ہوائی اڈے، ریلوے سٹیشن، دکانیں، یونیورسٹیاں، ہوٹل اور ایسے کئی اور کاروبار شامل نہیں ہیں۔

لیکن اگر ان کے اندازے کو 50 لاکھ سے 100 لاکھ تک بڑھا دیا جائے تب بھی موبائل فونز کی تعداد بلبوں سے زیادہ ہو گی۔

صحیح معلومات کی عدم موجودگی میں ڈیرا کیر کی بات ٹھیک ہی معلوم ہوتی ہے کہ ’یوگینڈا میں شاید بجلی کے بلبوں سے زیادہ موبائل فون موجود ہیں۔‘

اسی بارے میں