زیکا وائرس 2013 میں برازیل پہنچ گیا تھا

Image caption زیکا وائرس کی وبا کا سب سے پریشان کن پہلو اس کا مائیکرو سیفلی کے مرض میں اضافے سے ممکنہ قریبی تعلق ہے جس سے بچوں کے دماغ پیدائشی طورپر چھوٹے ہوتے ہیں

برازیل اور برطانیہ کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جنوبی امریکہ میں زیکا وائرس سنہ 2014 کے فٹبال ورلڈ کپ سے ایک سال قبل ہی پہنچ گیا تھا۔

اس تحقیق نے اس مقبول نظریے کو مسترد کر دیا ہے جس کے مطابق مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والا زیکا وائرس فٹبال ورلڈ کپ کے دوران شائقین کی وجہ سے جنوبی امریکہ پہنچا تھا۔

جریدے ’جنرل سائنس‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج کے مطابق وائرس سنہ 2013 میں مئی اور مارچ کے مہینوں کے دوران برازی پہنچ گیا تھا۔

یار رہے کہ زیکا وائرس کا پہلا مریض سنہ 2015 میں سامنے آیا تھا۔

سائنس دانوں نے برازیل کے محتلف علاقوں سے جمع کیے جانے والے زیکا وائرس کے سات جینیاتی کوڈز کا مطالعہ کیا۔

تحقیق کے دوران انھیں معلوم ہوا کہ وائرس کے تمام نمونوں کے درمیان قریبی تعلق موجود ہے، جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ برازیل میں یہ انفیکشن لانے والا ایک ہی شخص تھا۔

اس وقت زیکا وائرس اب تک 34 علاقوں یا ممالک تک پھیل چکا ہے۔

زیکا وائرس تیزی سے پھیلنے والا انفیکشن ہے۔ تمام نمونوں کے درمیان پائے جانے والے معمولی فرق کی مدد سے سائنس دانوں نے زیکا وائرس کا شجرہ نسب تیار کیا ہے اور اس بات کا اندازہ لگایا ہے کہ اس کے مشترکہ آبا و اجداد کب برازیل میں داخل ہوئے تھے۔

سائنس دانوں نے نتیجہ نکالا کہ وائرس سنہ 2013 کے وسط سے آخر کے درمیان ملک کے اندر داخل ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption زیکا وائرس مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے

برطانیہ کی اوکسفرڈ یونیورسٹی کے پروفیسر آلیور پائبس نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وائرس کیسے براعظم امریکہ پہنچا، تاہم یہ بات حتمی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ سنہ 2014 کے فٹبال ورلڈ کپ سے قبل ہی وائرس وہاں میں موجود تھا۔‘

زیکا وائرس کی وبا کا سب سے پریشان کن پہلو اس کا مائیکرو سیفلی کے مرض میں اضافے سے ممکنہ قریبی تعلق ہے۔ مائیکرو سیفلی کے مرض میں مبتلا بچوں کے دماغ پیدائشی طور پر چھوٹے ہوتے ہیں۔

مذکورہ تحقیق کے نتائج پر گفتگو کرتے ہوئے برطانیہ کے لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کے پروفیسر مارٹن ہبرڈ کا کہنا ہے کہ ’زیکا وائرس کا سامنے آنا اور پھر وبا کی صورت میں تیزی سے پھیل جانا بظاہر حیران کن لگتا ہے۔

’تاہم زیکا وائرس پھیلنے کے دیگر واقعات کا تیار کردہ نقشہ اور مچھر ہی سے تیزی سے پھیلنے والے ڈینگی وائرس کے مابین مضبوط تعلق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ اتنی غیر معمولی بات بھی نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں