عالمی سمندروں کی سطح ’دگنی‘ ہونے کا امکان

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سنہ 2500 تک اسی وجہ سے دنیا بھر میں سمندر کی سطح 3 میٹر سے بڑھ سکتی ہے

براعظم انٹارکٹکا میں آب و ہوا میں تبدیلیوں کے ایک نئے تجزیہ کے مطابق عالمی سمندر کی سطح موجودہ اعدادوشمار سے تقریباً دگنا اونچی بڑھ سکتا ہے ۔

لگائے گئے اندازے کے مطابق اس صدی کے آخر تک انٹارٹکا کے پگھلنے سے سمندر کی سطح ایک میٹر سے زیادہ بڑھ سکتی ہے۔

اسی اندازے کے مطابق سنہ 2500 تک اسی وجہ سے دنیا بھر میں سمندر کی سطح 3 میٹر سے بڑھ سکتی ہے۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ کاربن کے اخراج میں کمی سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

2013 میں ’دا انٹر گورمینٹل پینل ان کلائمٹ چینج‘ (آئی پی سی سی) نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ کاربن کی اخراج پر اگر کوئی بھی پابندی نہ لگائی جائے تو 2100 تک دنیا بھر میں سمندر کی سطح 98 سینٹی میٹر سے بڑھ سکتی ہے۔

تاہم آئی پی سی سی کے اندازوں کے مطابق سمندر کی سطح میں اضافہ انٹارکٹکا سے نہیں ہو گا۔

دوسرے اندازوں کے مطابق سمندر کی سطح میں بہت اضافہ ہو گا اور حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق پچھلے 2800 سالوں میں اس سال پہلی بار اتنا اضافہ ہوا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ 2100 تک سمندر کی سطح میں 1.31 میٹر کا اضافہ ہو گا۔

انٹارکٹکا کے دنیا کے سمندروں کی سطح پر اثر کے اندازوں پر شدید بحث جاری رہتی ہے لیکن پچھلے سال ایک تحقیق کے مطابق انٹارکٹکا کی وجہ سے سمندر کی سطح میں ایک میٹر سے زیادہ کا اضافہ ناممکن ہے۔

لیکن اس نئی تحقیق کے مطابق یہ کہا جا رہا ہے کہ دنیا 2100 میں انٹارکٹکا سے ہی سمندر کی سطح میں 1.14 میٹر کا اضافہ دیکھے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دنیا 2100 میں انٹارکٹکا سے ہی سمندر کی سطح میں 1.14 میٹر کا اضافہ دیکھے گی

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے جوماڈل بنایا ہے اس سے ان کے اندازوں میں زیادہ سچائی ہے کیونکہ جو حقیقت میں سمندروں پر ہوتا ہے اسی کی مماثلت سے یہ ماڈل بنایا گیا ہے۔

دوسرے ماڈل میں نیچے سے برف کی گرم پانی سے پگھلنے پر توجہ دیتے ہیں جبکہ نئی تحقیق میں بالائی سطح کے پگھلنے کا اثر اور بارش کا برف کو پگھلانے اور اس سے سمندر میں پانی کے سطح میں اضافہ میں تیزی کو دیکھتا ہے۔

اس نمونے سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ برف کے ٹکڑوں کے ٹوٹنے کا کیا اثر ہے۔

اگر یہ ہوتا ہے تو اس سے ان برفی دیواروں کی نشاندہی ہو سکتی ہے جو وزن کی وجہ سے اپنے آپ کو سہارا نہیں دے سکتیں۔ اس تحقیق میں حصہ لینے والے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان اضافی پہلوؤں کا اثر بہت سال بعد پتا چلے گا۔ یہ سب اس وقت پتا چلے گا جب سمندر کی گہرائی سے گرم پانی اور فضا میں اس کی گرمائش کے اثرات غالب ہوں گے۔

برٹش انٹارکٹک سروے کے پروفیسر ڈیوڈ واگھان کا کہنا ہے ’سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ سب ہو گا کب؟ کیا 2100 تک سمندر کی سطح میں اتنا زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے؟ مجھے نہیں معلوم لیکن یہ صحیح سوال ہیں۔‘

اسی بارے میں