10 ہزار ٹن ممنوع خوراک ضبط

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption 85 ٹن کوپر سلفیٹ سے پینٹ شدہ زیتون ملے جنھیں پینٹ کرنے کا مقصد اُن کا سبز رنگ بڑھانا تھا

10ہزار ٹن سے زائد ممنوع کھانے پینے اور بندر کے گوشت سمیت دیگر ممنوع غذاؤں کو وسیع پیمانے پر کیے جانے والے عالمی کریک ڈاؤن کے دوران ضبط کرلیا گیا ہے۔

یورپی پولیس ایجنسی ’یوروپول‘ کا کہنا ہے کہ تین ماہ کے دوران 57 ممالک میں پولیس فورسز نے یہ آپریشن کیے۔

اطالوی افسران کو 85 ٹن کوپر سلفیٹ سے پینٹ شدہ زیتون ملے جنھیں پینٹ کرنے کا مقصد اُن کا سبز رنگ بڑھانا تھا ۔

یوروپول انٹرپول کا یہ عمل جو کہ اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہوچکا ہے، نومبر 2015 سے فروری 2016 تک جاری رہا اس میں اب تک کی سب سے بڑی کھیپ پکڑی گئی۔

یوروپول کا کہنا ہے کہ جعلی اشیا کی مارکیٹ ملٹی بلین ڈالر پر مشتمل مجرمانہ صنعت ہے جو جزوی طور پر کھانے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

ہوائی اڈوں پر مسافروں کی تلاشی کے دوران غیر قانونی اشیا کی درآمد نے بھی اس غیر قانونی کام کو سامنے لایا جیسے کہ بیلجیم کے زیوینٹم ایئرپورٹ پر کسٹم افسران نے کئی کلو گرام بندر کا گوشت قبضے میں لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بیلجیم کے زیوینٹم ایئرپورٹ پر کسٹم افسران نے کئی کلو گرام بندر کا گوشت قبضے میں لیا تھا

آپریشن کے دوسرے قابلِ ذکر عناصر میں یہ باتیں شامل تھیں:

§ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم سے تقریباً نو ٹن کھاد سے آلودہ شکر قبضے میں لی گئی۔

§ 70 کلوگرام مرغی کی آنتیں جنھیں زہریلی گیس میں محفوظ کیا گیا تھا اور جو کھانے میں ممنوع ہیں، انڈونیشیا سے تحویل میں لی گئیں۔

§ یونان میں پولیس نے جعلی شراب بنانے والی تین غیر قانونی فیکٹریاں دریافت کیں۔

§ فرانسیسی افسران نے 11 کلو گرام ٹڈیاں تلف کیں اور 20 کلو گرام سُنڈیاں ہوائی اڈوں سے قبضے میں لیں۔

§ آسٹریلیا میں 450 کلو گرام شہد کی جانچ کی جارہی ہے جو کہ آمیزش شدہ ہے یا اس میں ملاوٹ کی گئی ہے۔

§ بولیوین پولیس نے ایک گودام تلاش کیا ہے جس میں سار دین (رایو مچھلی) کے ہزاروں کین اور پیرو کے مہشور برانڈ کے جعلی لیبل ملے۔

§ ہنگورین حکام نے تقریباً دو ٹن سے زائد جگر کے بغیر مرغابی کا گوشت پکڑا جسے مُرغابیوں کی مزیدار کلیجی کے طور پر فروخت کیا جانا تھا۔

§ تھائی لینڈ میں پولیس نے انڈیا سے ممنوعہ گوشت کی غیر قانونی درآمد کرنے والے ایک نیٹ ورک کو سامنے لایا اور سُپر مارکیٹوں میں انسانی استعمال کے لیے غیرب موزوں 30 ٹن سے زائد ممنوعہ گوشت کو تلف کیا۔

§ جنوبی کوریا کی پولیس نے غذا کی کمی کو پورا کرنے والی سپلیمنٹس کو سمگل کرنے والے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا جو کہ اپنی مصنوعہ کو آن لائن ایک قدرتی مصنوعہ کے طور پر فروخت کرتے تھے لیکن اس میں نقصان دہ اجزا شامل تھے۔

یوروپول کے ایک بیان کے مطابق اس کیس میں وزن میں کمی کی جعلی مصنوعات کے فروخت ذریعے دس ماہ کے عرصے کے دوران اندازاً 170,000 ڈالر کمائے گئے۔

انٹرپول کے مائیکل ایلس کے مطابق ’جعلی اور خطرناک غذائیں اور مشروبات سے صحت اورلوگوں کی حفاظت کو خطرات لاحق ہیں جو دنیا بھر میں اکثر لاعلمی میں ممکنہ طور پر بہت زیادہ خطرناک اشیا خرید رہے ہیں۔‘

بیلجیئن کے دارالحکومت برسلز میں بی بی سی کی انا ہولی گن کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر یہ نتائج سامنے آنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ یہ مسئلہ شدت اختیار کررہا ہے۔

اس سال بہت سے ایسے ممالک تھے جن میں ہمیشہ سے زیادہ اس طرح کے چھاپے مارے گئے اور یہ چھاپے ’آپریشن اوپسن‘ کہلایا جا رہا ہے ۔

یوروپول کے کرس وینسٹیکیسٹ کا کہنا ہے کہ جعلی اشیا سامنے آنے کی ایک وجہ اب افسران کو جعلی اشیا کی نشاندہی کرنے میں زیادہ تجربہ ہے ۔

انھوں نے کہا ’یہ پیچیدگی اور اس حد تک دھوکہ دہی کا مطلب یہ ہے کہ بہت وسیع پیمانے پر اس طرح کے مشترکہ آپریشن کی ضرورت ہے جو کہ کثیر نقطہ نظر کے تحت کیا جائے۔‘

اسی بارے میں