فیس بُک پر تصویریں ’پڑھنے‘ کی سہولت

Image caption نئی ٹیکنالوجی بنانے والوں میں میٹ کنگ، جیفری ویلینڈ اور شاؤمی وُو نے اہم کردار ادا کیا ہے

انٹرنیٹ پر تصاویر کا غلبہ ہونے کے باعث فیس بُک ایک ایسا نظام متعارف کرا رہا ہے جو تصاویر کو ’پڑھ‘ سکتا ہے اور کم بصارت والے لوگوں کو بتا سکتا ہے کہ اُن کے سامنے کیا چیز موجود ہے۔

انٹرنیٹ تبدیل ہو رہا ہے۔

درمیانی عرصے میں انٹرنیٹ مکمل طور پر متن پر مبنی تھا جو اب تیزی سے تصویری شکل میں ڈھل رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر روز ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بُک سمیت دیگر سماجی نیٹ ورکس پر ایک ارب 80 کروڑ تصاویر اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔

یہ فوٹوگرافی کے خواہش مند افراد کے لیے خوشخبری، جبکہ نابینا یا جزوی بصارت کے حامل افراد کے لیے بُری خبر ہے جو اکثر نہیں بتا سکتے کہ تصویر میں کیا ہے۔

لیکن فیس بُک کی جانب سے منگل کو ایک نئی سروس متعارف ہونے جا رہی ہے جس کے تحت اس مسئلے کا تدارک کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

نابینا افراد کمپیوٹر پر کام کرنے کے لیے نیویگیشن سافٹ ویئر استعمال کرتے ہیں جسے سکرین ریڈرز کہا جاتا ہے۔ یہ سافٹ ویئر سکرین کے مواد کو آواز کی شکل یا پھر بريل (نابيناؤں کے ليے ايک نظام تحر ير وطباعت جس ميں حروف تہجی کو ابھرے ہوئے نکتوں سے ملا کر بنايا جاتا ہے) میں بدل دیتا ہے۔ لیکن وہ صرف متن پڑھ سکتے ہیں، تصویری مواد نہیں ’پڑھ‘ سکتے۔

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے اب فیس بُک کے سرور ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہونے والی تصاویر کو پڑھ اور انھیں بیان کر سکتے ہیں اور اُن کو ایک ایسی شکل میں لے آتے ہیں جس سے وہ سکرین ریڈر کے ذریعے آسانی سے پڑھے جا سکتی ہیں۔

فیس بُک کی اس ترقی کے پیچھے جس شخص کا ہاتھ ہے ان کا نام میٹ کنگ ہے جو فیس بُک کے انجینیئر ہیں۔ انھوں نے ریٹینائٹس پِگمنٹوسا کی وجہ سے اپنی بینائی گنوا دی تھی۔ ریٹینائٹس پِگمنٹوسا ایک ایسی بیماری ہے جو پردہ چشم کے روشنی کے حساس خلیات کو تباہ کر دیتی ہے۔

کنگ کے مطابق ’فیس بُک پر جو کچھ ہوتا ہے وہ بہت زیادہ بصری ہے، اور نابیناؤں کو بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اجنبی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’یہ نظام بہت ابتدائی مراحل میں ہے لیکن یہ ہمیں اس جانب لے جا رہا ہے جس کا مقصد ہر فرد کو اس میں شامل کرنا ہے جو گفتگو میں حصہ لینا چاہتا ہے۔‘

یہ نظام اس وقت تصاویر کو سادہ الفاظ میں بیان کرتا ہے جیسے: ’اس تصویر میں دو لوگ ہیں اور وہ مُسکرا رہے ہیں۔‘

Image caption فیس بک کا کہنا ہے کہ ان کا نیا سافٹ ویئرمستقبل میں 80 عام چیزوں کو پہچان سکے گا

تاہم فیس بُک کا کہنا ہے کہ اُس نے اب اپنے سافٹ ویئر کو تربیت دی ہے کہ وہ کاروں سے لے کر ٹرینوں تک، کھانے سے لے کر پہاڑوں تک، پانی سے لے کر سمندر تک اور کھیل جیسے ٹینس، تیراکی اور گولف سمیت 80 عام چیزوں کو پہچان سکے۔ یہ اس میں ہر تصویر میں متبادل متن کے طور پر مزید وضاحت شامل کر دیتا ہے۔ جتنی زیادہ تصاویر یہ سکین کرتا ہے سافٹ ویئر اُتنا ہی زیادہ جدید تر بن جاتا ہے۔

کنگ اور فیس بُک اس نظام کو مزید ایک قدم آگے لے جانا چاہیں گے اور کسی تصویر میں لوگوں کو نام سے شناخت کرنے کے لیے چہرے کی تصدیق کی جائے گی اور یہ صارفین کے ڈیٹا بیس کی مدد سے کیا جائے گا۔

لیکن دوسروں کی جانب سے رازداری کے حوالے سے اس خیال کی مزاحمت کی جا رہی ہے۔

کنگ کے لیے یہ اصول کی بات ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نزدیک کی خراب نظر والے اور کم بصارت کے حامل اور نابینا افراد کو بھی آن لائن شائع ہونے والے مواد تک یکساں رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں