کیا دولت سے خوشی خریدی جا سکتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایسے افراد جو اپنی شخصیت سے مطابقت رکھنے والی اشیا کی خریداری پر زیادہ رقم خرچ کرتے وہ بہت خوش رہتے ہیں۔

انسانی رویوں اور نفسیات کے حوالے یہ تحقیق جنرل آف سائیکلوجیکل سائنس میں شائع ہوئی ہے۔

پیسہ آپ کو خوشی دے سکتا ہے؟

ریسرچ کے مطابق کسی بھی شخص کی آمدن یا مجموعی اخراجات سے زیادہ شخصیت اور اخراجات کی مطابقت خوش رہنے اہم کردار ادا کرتی ہے۔

یونیورسٹی آف کیمبرج اور ایک برطانوی بینک کی اس مشترکہ تحقیق میں بینک کے صارفین سے اُن کی شخصیت کے مطابق معیار اور خوشی کے حوالے سوالات پوچھے گئے۔

جس کے بعد ان کا موازانہ بینک سے کی جانے والی ٹرانزیکشنز سے کیا گیا۔ اخراجات کو59 کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا جبکہ شخصی ِخصوصیات کی بھی پانچ کیٹیگریز بنائی گئی ہیں۔

ریسرچ کے لیے 625 افراد کی 76863 ٹرانزیکشنز کا جائزہ لیا گیا۔ڈیٹا کے مشاہدے سے پتہ چلا کہ لوگ زیادہ تر وہ مصنوعات خریدتے ہیں جو اُن کی شخصیت کے مطابق ہوتی ہیں۔

مثال کے طور پر ایسے افراد جو زیادہ ملنسار ہیں وہ کم تعلقات رکھنے والوں کے مقابلے میں شراب خانوں اور نائٹ کلبس پر سالانہ اوسطً 52 پاونڈ زیادہ خرچ کرتے ہیں۔

اس طرح باضمیر افراد یا صحت کا خیال رکھنے والے افراد اپنی صحت پر دوسروں کے مقابلے میں 124 پاونڈ زیادہ خرچ کرتے ہیں۔

ریسرچ سکالر جیو گلیڈ سٹون کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دولت اور خوشی کا آپس میں زیادہ گہرا تعلق نہیں ہے۔

کاروباری کمپنیاں اس ریسرچ کو اپنا مصنوعات کی بہتر مارکیٹنگ کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔

کمپنیوں کو پتہ چل سکتا ہے کہ وہ کون سے صارف ایسے ہیں جنھیں بک شاپ کے بجائے بار کا مفت واچر دیا جائے تاکہ اُسے پانے کے بعد وہ زیادہ خوش اور مطمئن ہوں۔

ریسرچ کے نتائج بتاتے ہیں کہ ایسی اشیا پر رقم خرچ کرنا جو انفرادی مسرت کا ذریعہ بنتی ہیں، اُتنا ہی اہم ہے جنتا کہ صحیحی ہمسائے، ملازمت اور مخلص دوست کی تلاش اہم ہے۔

اسی بارے میں