’موٹاپے سے رحم مادر کے سرطان کا خطرہ‘

Image caption برطانیہ میں ہر سال تقریباً 9،000 خواتین بچہ دانی کے سرطان کا شکار ہوتی ہیں اور تقریباً 2،000 اس بیماری کی وجہ سے انتقال کر جاتی ہیں

برطانیہ کے ایک خیراتی ادارے کینسر ریسرچ یوکے نے خبر دار کیا ہے کہ بڑھتا ہوا موٹاپا ممکنہ طور پر بچہ دانی یا رحم کے سرطان میں مبتلا خواتین کی تعداد میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 90 کے عشرے میں برطانیہ کی ایک لاکھ خواتین میں سے اوسطاً 19 رحم کے سرطان میں مبتلا تھیں لیکن سنہ 2013 میں یہ تعداد 19 سے بڑھ کر 29 تک جا پہنچی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ زائد وزن کا بچہ دانی کے سرطان سے کیا تعلق ہے لیکن موٹاپے کی وجہ سے پیدا ہونے والے ہارمون اس میں کوئی نہ کوئی کردار ضرور ادا کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

خطرے کی گھنٹی

برطانیہ میں ہر سال تقریباً 9,000 خواتین بچہ دانی کے سرطان کا شکار ہوتی ہیں اور تقریباً 2,000 اس بیماری کی وجہ سے انتقال کر جاتی ہیں۔

Image caption یہ بات پریشان کن ہے کہ بچہ دانی کے سرطان میں مبتلا خواتین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ 20 برسوں کے دوران طریقہ علاج میں بہتری آنےکی وجہ سے اس مرض سے ہونے والی اموات میں کمی ہونے کی بھی امید پیدا ہوئی ہے۔

لیکن ان کا کہنا ہے اس مرض کا شکار ہونے والی خواتین کی تعداد میں اضافے کی وجہ جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

کینسر ریسرچ یوکے سے تعلق رکھنے والے پروفیسر جوناتھن لیڈر مین کا کہنا تھا کہ ’یہ بات پریشان کن ہے کہ بچہ دانی کے سرطان میں مبتلا خواتین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

’ہمیں اس کی تمام وجوہات تو نہیں معلوم لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ اس مرض کی شکار خواتین کی ایک تہائی تعداد زائد موٹاپے کا شکار ہے۔ اس لیے اس بات میں کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ بچہ دانی کے سرطان کا تعلق کہیں نہ کہیں موٹاپے سے ہے۔‘

یہ بات ابھی تک واضح نہیں کہ بچہ دانی کے سرطان کی وجوہات کیا ہیں لیکن کچھ عوامل ایسے ہیں جو اس مرض کے پیدا ہونے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ممکن ہے کہ موٹاپے کا شکار خواتین میں زائد چربی ایسے ہارمون اور گروتھ فیکٹر مالیکیول تخلیق کرتی ہو جو جسم میں موجود خلیوں کو تیزی سے تقسیم ہونے میں مدد دیتے ہوں، اور جس کی وجہ سے رسولی بننے کے خطرہ رہتا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ورزش کی کمی، بڑھتی عمر اور جینیاتی عوامل بھی اس مرض کے وجوہات میں شامل ہیں

اس کے علاوہ ورزش کی کمی، بڑھتی عمر اور جینیاتی عوامل بھی اس مرض کے وجوہات میں شامل ہیں۔

مانچسٹر سے تعلق رکھنے والی 56 سالہ کیتھ بیبنگٹن تین سال قبل اس مرض کا شکار ہوئی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے انھوں نے اپنی غذا اور ورزش پر توجہ دینی شروع کر دی ہے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’یہ مرض میرے لیے ایک انتباہ تھا۔ مجھےحیرت تھی کہ سگریٹ اور شراب سے دور رہنے اور بے تحاشا پیدل چلنے کے باوجود بھی مجھے یہ مرض کیوں لاحق ہوا۔

’مجھے نہیں معلوم کہ میرے سرطان کی کیا وجوہات تھیں، لیکن مجھے اس بات کا اعتراف کرنا پڑا کہ مجھے اپنا وزن کم کرنے کے لیے اپنے طرز زندگی کئی تبدیلیاں لانی ہوں گی تاکہ میں مستقبل میں صحت مند زندگی گزار سکوں۔‘

پبلک ہیلتھ انگلینڈ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر ایلیسن ٹیڈ سٹون کہتی ہیں: ’ہم جانتے ہیں کہ زائد وزن یا موٹاپے کی وجہ سے کئی قسموں کے سرطان کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی غذا کی مقدار میں کمی کے علاوہ چربی اور شکر والی غذاؤں کا استعمال بھی کم کر دیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA

وہ خواتین جو سن یاس یا مینو پاز کے عمل سے گزر رہی ہوتی ہیں، ان کو بچہ دانی کے سرطان کے لاحق ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ اس مرض کا شکار زیادہ تر خواتین کی عمر 40 سے 74 سال کے درمیان ہوتی ہے۔

اس مرض کی علامات میں رحم سے غیر متوقع اور غیر معمولی بہاؤ کے ساتھ خون کا اخراج، پیشاب میں خون آنا اور پیٹ کا درد شامل ہیں۔ اگر بر وقت تشخیص اور علاج کر لیا جائے تو اس مرض سے چھٹکارا پانا ممکن ہے۔

اس مرض کا علاج سرجری، کیموتھیراپی اور ریڈیو تھیراپی سے کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں