پارکنسنز کی بیماری چھپانے کے لیے جھوٹ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption قابلِ تشویش بات ہے کہ بہت بڑی تعداد میں لوگ اس مرض کی تشخیص کے حوالے سے اکیلے جدوجہد کرتے ہیں

ایک خیراتی ادارے کے مطابق برطانیہ میں پارکنسنز کے مرض میں مبتلا ایک تہائی سے زیادہ تعداد اپنی علامات کو چھپانے یا اپنے مرض کے متعلق جھوٹ بولنے کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔

پارکنسنز ایک عصبی مرض ہے جس میںمریض کے پٹھوں کی حرکات رفتہ رفتہ بند ہونے لگتی ہیں، اور اکثر اوقات اس کے ہاتھوں پیروں میں لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔

تحقیقاتی ادارے پارکنسنز یوکے کا کہنا ہے کہ ان علامات کو معاشرے میں قبول نہیں کیا جاتا اور مریض کے خاندان والوں کو اس بیماری کی وجہ سے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔

مزید کہا گیا کہ یہ بات بھی قابلِ تشویش ہے کہ بہت بڑی تعداد میں مریض اکیلے جدوجہد کر رہے ہیں اور یہ بات اُن کی جذباتی صحت کو متاثر کرتی ہے۔

اس بیماری نے برطانیہ میں 127,000 لوگوں کو نشانہ بنایا ہے یعنی ہر 500 افراد میں سے ایک فرد اس بیماری سے متاثر ہے۔

اس کی اہم علامات میں رعشہ، سُست روی اور ہچکچاہٹ شامل ہیں۔

خیراتی ادارے نے اس بیماری سے نبردآزما 1,868 لوگوں پر تحقیق کی کہ وہ اس کی تشخیص کے بعد اس بیماری سے کیسے نمٹتے ہیں۔

بدنامی کا خوف

اس بیماری میں مبتلا ہر تین میں سے ایک فرد کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے خاندان اور دوستوں کو اس بیماری کے متعلق بتانے میں تاخیر کی اور اس کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ بدنامی کا خوف ہے۔

خیراتی ادارے کے نتائج میں پارکنسنز میں مبتلا لوگوں میں جذباتی ردِعمل کی پریشان کُن سطح کا انکشاف کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس مرض میں مبتلا نوجوانوں کا علاج خاص طور پر مشکل ہوتا ہے کہ کیوں کہ بہت سے نوجوان محسوس کرتے ہیں ’جیسے اُن کی دنیا ختم ہوگئی ہو اور وہ نہیں جانتے کہ اس سلسلے میں کس سے رجوع کریں۔‘

پارکنسنز یوکے کے چیف ایگزیکٹیو سٹیو فورڈ کا کہنا ہے کہ اعصاب کی تنزلی لوگوں کی جذباتی صحت پر بہت خوفناک اثرات مرتب کر رہی ہے۔

اسی بارے میں