ڈائنوساروں کی معدومی ماضی کے اندازوں سے کہیں پہلے

تصویر کے کاپی رائٹ Mark Garlick Science Photo Library
Image caption اس ٹیم کا کہنا ہے کہ ڈائنوسار جیسی مخلوق پہلے ہی سے تنزلی کا شکار تھی کیونکہ کرہ ارض پر جس تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں اس سے وہ نمٹنے میں قاصر تھی

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ڈائنوسار کرہ ارض پر شہابِ ثاقب کی اس بارش سے پانچ کروڑ سال پہلے ہی معدوم ہونا شروع ہو گئے تھے جسے ان کے خاتمے کی وجہ سمجھا جاتا ہے۔

نئی تحقیق سے اس بات پر بحث اور تیز ہونے کا امکان ہے کہ جب تقریباً ساڑھے چھ کروڑ برس قبل دس کلومیٹر کی چوڑی خلائی چٹّان زمین سے ٹکرائی تھی تو اس وقت ڈائنوساروں کی کیا حالت رہی ہو گي۔

محققین کی اس ٹیم کا کہنا ہے کہ ڈائنوساروں کی انواع پہلے ہی سے زوال کا شکار تھیں کیونکہ کرہ ارض پر جس تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں اس سے وہ نمٹنے میں قاصر تھیں۔

اس کے لیے محققین نے ڈائنوسارز کی زمین سے معدومی سے 23 کروڑ دس لاکھ برس پہلے تک کے فوسل باقیات کا جائزہ لیا اور یہ وہ وقت ہے جب ڈائنو سارز پہلی بار زمین پر ظاہر ہوئے تھے۔

اس کے مطابق ابتدا میں اس مخلوق کا ارتقا بہت تیزی سے ہوا لیکن بعد میں اس کی اس رفتار میں گرواٹ آگئی جس سے اس کی تعداد بھی گھٹنے لگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یونیورسٹی آف ریڈنگ میں حیاتیات سے متعلق محقق ڈاکٹر منابو سکاموتو اس تحقیقی ٹیم کے قائد تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں اس طرح کے نتائج کی توقع نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا: ’وہ آخر میں شہابیے کے اثرات کی وجہ ہی سے پوری طرح ختم ہوئے، لیکن حقیقت میں شہابیے کے ٹکراؤ سے پانچ کروڑ برس پہلے ہی وہ تنزل کا شکار تھے۔‘

اس تحقیق میں شامل ان کے ایک دوسرے ساتھی ڈاکٹر کرس وینڈیٹی نے، جو ریڈنگ یونیورسٹی سے ہی وابستہ ہیں، بی بی سی کو بتایا: ’اس سے متعلق ابھی تک عام نظریہ یہ رہا ہے کہ زمین پر جب تک خلائی دھماکے کا اثر نہیں ہوا تھا اس وقت تک ڈائنوساروں کا زمین پر مکمل راج تھا اور یہ کہ اسی خلائی اثر کی وجہ سے ہی ان کا خاتمہ ہونا شروع ہوا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’ہم نے جو دریافت کیا وہ یہ ہے کہ اس ٹکر سے پہلے ہی ان کی تعداد کم ہونے لگی تھی اور وہ ختم ہو رہے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈائنوساروں کا خاتمہ ماحولیات کی تبدیلی سے ہی شروع ہوگيا تھا لیکن بعد میں شہابیے کے اثرات کا ان پر بہت زیادہ اثر ہوا جس سے وہ پوری طرح ہی معدوم ہو گئے

ڈاکٹر وینڈیٹی کا خیال ہے کہ ڈائنوساروں کا خاتمہ ماحولیات کی تبدیلی سے ہی شروع ہو گيا تھا لیکن بعد میں شہابِ ثاقب کے اثرات کا ان پر بہت زیادہ اثر ہوا جس سے وہ پوری طرح ہی معدوم ہو گئے۔

دو برس قبل بھی اسی طرح کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ بعض جاندار شہابِ ثاقب کے ٹکراؤ سے پانچ کروڑ سال پہلے ختم ہونی شروع ہو گئی تھیں۔ نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مرحلہ کروڑوں برس پہلے ہی شروع ہوگیا تھا اور اس سے بہت سے جاندار متاثر ہوئے تھے۔

تو آخر کیا وجہ ہے کہ شہابیے کی ٹکر سے پہلے ہی ڈائنوساروں کی تعداد کم ہونے لگی تھی؟ ابھی اس بارے میں کسی کو کچھ بھی نہیں معلوم ہے لیکن ایک امکان یہ کہ شاید اس وقت کرہ ارض پر تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں اور وہ اس سے نمٹنے سے قاصر رہے ہوں گے۔

23 کروڑ سال پہلے جب پہلی بار ڈائنوسار نمودار ہوئے اس وقت کرہ ارض پر زبردست گرمی تھی اور خوب ہریالی بھی تھی اور یہ فضا ان کے جینے کے لیے بہت سازگار رہی ہو گی۔

لیکن جیسے جیسے موسم سرد ہوتا گيا اور سطح سمندر نیچے ہوتی گئی ویسے ویسے ڈائنوساروں پر ارتقائی دباؤ پڑتا گیا اور شاید وہ اس کو جھیل نہیں پائے۔

اسی بارے میں