پیلمائرا کی قدیم محراب کی نقل ٹریفیلگر سکوائر میں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لندن کے بعد اس نمونے کی نمائش کئ ملکوں میں کی جائے گی

شام کے قدیم شہر پیلمائرا میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ہاتھوں تباہ ہونے والی یادگاری قدیم محراب کی نقل لندن کے ٹریفیلگر سکوائر میں نصب کی گئی ہے۔

دو ہزار سال پرانی یہ محراب بیل کے معبد کے باقی رہ جانے والے آخری آثارِ قدیمہ میں سے ایک تھی اور یہ معبد شام میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف ڈیجیٹل آرکیالوجی نے اس محراب کو تصاویر اور تھری ڈی پرنٹر کا استعمال کرتے ہوئے مصری سنگِ مر مر سے تخلیق کیا ہے۔

لندن کے بعد اس کی نمائش کئی دیگر ممالک میں بھی کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پیلمائرہ اور اس کے کھنڈرات کو جن پر دولت اسلامیہ نے مئی میں قبضہ کر لیا تھا مارچ کے آخر میں واپس حاصل کر لیا گیا

اس نمونے کو نیویارک اور دبئی لے جانے سے پہلے اس کے دو تہائی حصہ کو ٹریفیلگر سکوائر میں تین دنوں کے لیے رکھا جائے گا۔

آئی ڈی اے کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر روجر مائیکل کا کہنا تھا کہ اس نمونے کو اگلے سال پیلمائرہ میں محراب کی اصلی جگہ کے نزدیک مستقل طور پر نصب کر دیں گے۔

لندن میں نمونے کو نصب کرنے کے دوران موجود شام کے آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر مامون عبدلکریم کا کہنا تھا کہ ’یہ دنیا میں آگاہی پھیلانے کا پیغام ہے۔ یہ صرف شام کے لوگوں کے لیے نہیں بلکہ تمام دنیا کا مشترکہ ورثہ ہے۔ ‘

پیلمائرہ اور اس کے کھنڈرات کو جن پر دولت اسلامیہ نے گذشتہ برس مئی میں قبضہ کر لیا تھا، رواں برس مارچ کے آخر میں واپس حاصل کر لیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

دی انسٹیٹیوٹ آف ڈیجیٹل آرکیالوجی امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی، برطانیہ کی یونیورسٹی آف آکسفورڈ اور دبئی کے میوزیئم آف دی فیوچر کی مشترکہ کاوش ہے۔

فی الحال یہ ادارہ پورے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں لوگوں کو رضاکارانہ طور پر تھری ڈی کیمرے دے رہا ہے تاکہ وہ ان مقامات کی تصاویر کھینچ سکیں جن کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

پیلمائرہ کی محراب کا ساڑھے پانچ میٹر اونچا نمونہ تصویروں کی مدد سے اصل محراب جیسا اور اسی شکل و صورت پر بنایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

روجر مائیکل نے یہ بھی کہنا ہے کہ شام میں مرنے والوں کو تو واپس نہیں لایا جا سکتا لیکن جو زندہ ہیں ان کی زندگیوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ’وہ آثار قدیمہ کو اس لیے بھی بحال کرنا چاہتے ہیں تاکہ دہشت گردوں کو یہ پیغام ملے کہ وہ ان باقیات کو جو دنیا کا مشترکہ ثقافتی ورثہ ہیں مٹا نہیں سکتے۔ ‘

اسی بارے میں