گریٹ بیریئر ریف کورل بلیچنگ سے شدید متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عالمی تپش اور کورل بلیچنگ کے مابین تعلق بہت واضح ہے

آسٹریلیا میں کیے جانے والے ایک وسیع فضائی اور زیر سمندر جائزے کے مطابق آسٹریلیا کے گریٹ بیریئر ریف کا 93 فیصد حصہ کورل بلیچنگ سے متاثر ہوا ہے۔

کورل ریف سمندر کے اندر مونگے یا مرجان کی رنگ برنگی چٹانیں ہوتی ہیں، جب کہ بلیچنگ کے عمل میں ماحول کی تپش کے باعث ریف اپنی رنگت کھو دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس قبل بھی تنبیہ جاری کی جا چکی تھی کہ ریف بدترین کورل بلیچنگ کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

آسٹریلیا کی نیشنل کورل بلیچنگ ٹاسک فورس کے پروفیسر ٹیری ہیوز نے بی بی سی کو بتایا کہ عالمی تپش اور کورل بلیچنگ کے مابین تعلق ’بہت واضح ہے۔‘

پانی کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث کورل کو رنگت دینے والی ایلجی یا کائی سوکھ جاتی ہے۔ اگر صورت حال واپس معمول پہ نہ آئی تو یہ کورل ریف ختم ہو سکتے ہیں۔

ٹاسک فورس کی جانب سے کیے جانے والے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ آسٹریلیا کی ریاست کوینز لینڈ میں 2300 کلومیٹر پر محیط ریف کا شمالی حصہ سب سے زیادہ متاثر ہے۔ پروفیسر ہیوز کے مطابق ریف کا محض سات فیصد حصہ بلیچنگ سے بچا ہوا ہے۔

سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے اور بلیچنگ کے عمل کے لیے ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ موسمیاتی مظہر ال نینیو کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تین مرتبہ بلیچنگ کے عمل کا شکار ہونے کے باعث کورلز کی خصوصیات اور اقسام میں پہلے ہی تبدیلی آ چکی ہے

اس تحقیق کے دوران ہلکے طیاروں اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے 900 ریفوں کا انفرادی طور پر معائنہ کیا گیا جبکہ تفصیلی فضائی جائزے کے ساتھ سکُوبا غوطہ خوروں کی ایک ٹیم کی جانب سے بھی زیر سمندر جائزہ لیا گیا۔

پروفیسر ہیوز کہتے ہیں: ’میں پیدائشی طور پر خوش امید واقع ہوا ہوں، تاہم میں سمجھتا ہوں کہ گریٹ بیریئر ریف کے تحفظ کے لیے ہمارے پاس بہت زیادہ وقت نہیں بچا۔ اگر ہم نے عالمی تپش روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے تو صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

’تین مرتبہ بلیچنگ کے عمل کا شکار ہونے کے باعث کورلز کی خصوصیات اور اقسام میں پہلے ہی تبدیلی آ چکی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ سنہ 1998 اور سنہ 2002 کے مقابلے میں حالیہ بلیچنگ کا عمل سب سے زیادہ سنگین ہے۔ پروفیسر ہیوز نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ اس بار محض سات فیصد ریف بلیچنگ کے عمل سے محفوظ رہی ہے۔ گذشتہ دو مواقع پر یہ تناسب تقریباً 40 فیصد کے قریب تھا۔

Image caption سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے اور بلیچنگ کے عمل کے لیے ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ موسمیاتی مظہر ال نینیو کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے

’اگر یہ عمل ہر پانچ سے دس سال میں دہرایا جانے لگا تو مناسب تعداد میں کورلز کی افزائش نہیں ہو سکے گی۔‘

نیشنل کورل بلیچنگ ٹاسک فورس کے مطابق آسٹریلیا کے گریٹ بیریئر ریف کی سیاحت سے سالانہ 3.9 ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے جبکہ 70 ہزار لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔

کوینز لینڈ کی سیاحتی صنعت کی کونسل کے چیف ایگزیکٹیو ڈینیئل شوینڈ کہتے ہیں: ’شکر ہے کہ ریف کے کئی حصے اب بھی بہترین حالت میں ہیں۔ تاہم ہم کورل بلیچنگ کے عمل کو نظرنداز نہیں کر سکتے اور کسی قسم کے اقدامات کیے بغیر ان کی اصل حالت میں واپسی کی امید نہیں کرسکتے۔‘

دنیا بھر میں عمل پذیر ہونے والا اب تک کا بدترین بلیچنگ کا عمل آسٹریلیا کی مغربی ساحلی پٹی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

آسٹریلیا کا محکمہ ماحولیات اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ ریف کے تحفظ کے لیے ریاست اور وفاقی حکومت کی جانب سے اگلی ایک دہائی میں دو ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔