زیکا: دو ارب سے زیادہ ’خطرناک‘ علاقوں میں مقیم

Image caption یہ جاننے کے بعد کہ زیکا کی کن جگہوں پر افزائش ہو سکتی ہے محققین اس بات کی پیشن گوئی کر سکتے ہیں کہ کون سے علاقے اس سے متاثر ہو سکتے ہیں

سائنسی رسالے ای لائف میں شائع ہونے والے ایک تفصیلی نقشے کے مطابق دنیا میں تقریباً سوا دو ارب لوگ ایسے علاقوں میں آباد ہیں جہاں زیکا وائرس پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔

زیکا وائرس Aedes aegypti نامی اک خاص مچھر سے پھیلتا ہے اور اس برس یہ عالمی سطح پر ایک خطرناک وبا کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جن علاقوں میں زیکا وائرس کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اس کی نقشہ بندی اتنی آسان نہیں تھی جتنا یہ بتانا آسان تھا کہ یہ مچھر کہاں پنپ سکتا ہے۔

اس تحقیق میں شامل اوکسفرڈ یونیورسٹی کے ایک محقق ڈاکٹر آلیور براڈی نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ اپنی نوعیت کے ایسے پہلے نقشے ہیں جن میں زیکا وائرس سے متعلق ڈیٹا استعمال کیا گیا ہے جبکہ پہلے کے نقشے میں زیکا کو ڈینگی یا چکنگنیا جیسے امراض کی طرح پیش کیا گیا تھا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’ہم پہلے ہیں جنھوں نے بڑی باریک بینی سے زیکا سے متعلق دستیاب جغرافیائی اور ماحولیاتی ڈیٹا استعمال کیا ہے۔‘

یہ جاننے کے بعد کہ زیکا کی کن جگہوں پر افزائش ہو سکتی ہے، محققین اس بات کی پیشنگوئی کر سکتے ہیں کہ کون سے علاقے اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زیکا وائرس ایڈیز ایجیپٹی نامی اک خاص مچھر سے پھیلتا ہے جو اس برس عالمی سطح پر ایک خطرناک وبا کی صورت میں سامنے آیا ہے

محققین نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ جنوبی امریکہ کا ایک بہت بڑا ایسا علاقہ اس سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے جو فی الوقت اس وائرس کے پھیلاؤ کے باعث توجہ کا مرکز ہے۔

اس میں کہا گيا ہے کہ تقریباً سوا دو ارب لوگ جو ان مذکورہ علاقوں میں رہتے ہیں انھیں اس وائرس سے خطرہ لاحق ہے۔

جن علاقوں میں اس وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ہے اس میں جنوبی امریکہ کے طویل ساحلی علاقے اور وہ شہر شامل ہیں جو دریائے ایمازون کے آس پاس آباد ہیں۔

امریکہ میں ریاست فلوریڈا اور ٹیکسس میں شدید گرمی کے موسم میں بھی اس کا انفیکشن پنپ سکتا ہے۔

ڈاکٹر براڈی نے کہا: ’زیکا کے مچھر کے پھیلاؤ کی بہت سی اور بھی وجوہات ہوتی ہیں۔ مچھر کے اندر زیکا کی افزائش کے لیے موسم کا اچھا خاصا گرم ہونا ضروری ہے جبکہ اس کے پھیلاؤ کے لیے وہاں انسانی آبادی کا ہونا بھی ضروری ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

محققین کا کہنا ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں ایسے بہت بڑے علاقے پائے جاتے ہیں جو اس وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

چند روز قبل ہی امریکہ میں بیماریوں پر تحقیق کرنے والے ادارے نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ زیکا وائرس کی وجہ سے بچوں میں شدید پیدائشی نقائص پیدا ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

بیماریوں کی روک تھام اور بچاؤ کے ادارے سی ڈی سی نے زیکا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماری مائیکروسیفلی کی بھی تصدیق کی تھی۔

برازیل میں پچھلے سال سینکڑوں ایسے بچے پیدا ہوئے جو مائیکروسیفلی سے متاثر تھے۔ یہ وہ مرض ہے جس میں بچے کا سر عام بچوں کے سروں کی نسبت غیر معمولی طور پر چھوٹا ہوتا ہے۔

مائیکروسیفلی کے مریضوں میں اسی وقت اضافہ دیکھنے میں آیا جب زیکا وائرس کے کیسوں میں بھی اضافہ ہو رہا تھا جس کے بعد سے ماہرین کو شک ہوا کہ دونوں کے درمیان تعلق ہو سکتا ہے۔

امریکہ کے محکمہ صحت کے نمائندوں نے زیکا وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ انھوں نے اس کے لیے مالی امداد میں اضافے کی بھی درخواست کی ہے۔

اسی بارے میں