دانت پیلے کیوں ہوتے ہیں، چھٹکارہ پانے کا طریقہ

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock

ایسی کیا چیز ہے جس سے آپ کی مسکراہٹ بالکل ہولی وڈ کے اداکاروں کی ماند ہو جائے یا بعض اوقات ایسی مسکراہٹ عام افراد کی بھی ہوتی ہے۔

جی ہاں چمکتے سفید دانت۔

جو نہ صرف خوش ذوقی کی علامت ہیں بلکہ انسانی نفیسات پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

لیکن قدرتی طور پر تمام افراد کے دانت سفید نہیں ہوتے اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ہمیشہ کافی پینے سے ہی دانتوں کی رنگت پیلی پڑ جاتی ہے۔

ہم نے دانتوں کے ایک ڈاکٹر سے پیلے دانتوں کی وجوہات اور ان سے چھٹکارہ کا طریقہ پوچھا۔

پیلے دانتوں کی جنیاتی یا موراثی وجہ

جرنل کونسل برائے کالج آف ڈینٹس سپین کے ڈاکٹر آسکر کاسترو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہر شخص کے دانتوں کی رنگت اُس کی اپنی ہوتی ہے۔ پیدائش کے وقت جین میں موجود اہم عنصر دانتوں کے رنگت کو واضح کرتے ہیں۔‘

ڈینٹل ڈیسمورفیا: خوبصورت مسکراہٹ کا جنون

ڈاکٹر کاسترو کے مطابق بعض اوقات پیدائشی بیماریاں بھی ہوتی ہیں جن سے انیمل یا دانتوں کی مینا کاری میں نقص ہوتا ہے اور اس وجہ سے دانت پیلے یا بعض اوقات تو بھورے بھی ہو جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ ایسی بیماری ہے جو والدین سے بچوں مورثیت میں ملتی ہے۔‘

ڈاکٹر کاسترو: ’اس کے علاوہ تھارائیڈ ہارمومز میں مسائل بھی دانتوں کی رنگت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس سے دانتوں پر کوئی دھبہ آ جاتا ہے اور اُن کا رنگ بدل جاتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock

دانتوں پر کھانے پینے کے اثرات

بعض خوراک اور مشروبات میں رنگ ہوتے ہیں جو دانتوں کے سطح پر موجود باریک سوراخوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ جیسے کافی اور چائے۔

ڈاکٹر کاسترو کی مطابق ریڈ وائن یا کولا مشروبات کے علاوہ سبز چائے یا گرین ٹی میں بھی پگمینٹس ہوتے جو دانت پیلے کرتا ہے۔

دانت سفید رکھنے کے عملی مشورے

ایسی خوراک بھی ہیں جن میں قدرتی طور پر رنگ کاٹ یا انٹی آکسیڈینٹ پگمنٹ ہوتے ہیں۔ جیسے گاجر، ٹماٹر یا پالک وغیرہ

ڈاکٹر کاسترو نے بتایا کہ بعض مقامات کا پانی بھی دانتوں کو پیلا کر سکتا ہے ’پانی میں فلورائیڈ کی وافر مقدار سے دانتوں پر داغ آ جاتے ہیں۔‘

ادویات اور علاج

ڈینسٹ کا کہنا ہے کہ بعض انٹی بائیوٹک ادویات جیسے ٹیٹراسیلائن دانت کے بننے میں خلل ڈالتی ہیں اور وہ دانت کو دھاری دار بنا دیتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock

انھوں نے کہا کہ بعض مصنوعات جیسے ماؤتھ واش کے استعمال سے بھی دانت پیلے ہو سکتے ہیں۔دانت میں فیلنگ بھی اُس کی رنگت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ دانت کے اندر موجود پٹھے کو ختم کر دینے سے بھی اُس کی رنگت ماند پڑ جاتی ہے۔

منہ میں ِخون کے رساؤ سے سے دانت کی رنگت متاثر ہوتی ہے۔

عمر کے بڑھنے کے ساتھ دانتوں کی حفاظت

عمر میں اضافہ بھی دانتوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے دانت پیلے ہونے لگتے ہیں۔

ڈاکٹر کاسترو کے مطابق عمر کے ساتھ دانت پیلا ہونا معمول کی بات ہے کیونکہ پیدائش کے بعد ایسے کئی عوامل ہوتے ہیں جو دانتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں لیکن یہ بھی اہم ہے کہ ہم اُن کا خیال کیسے لکھتے ہیں اور انھیں کتنا صاف رکھتے ہیں۔

دانت صاف کرنا کا طریقہ کار

دانتوں کی مکمل صفائی بہت ضروری ہے۔ ہم وقت کو تو نہیں روک سکتے لیکن دانتوں کی مناسب دیکھ بحال اور پگمنٹس والی خوراک کے استعمال میں کمی سے اُنھیں محفوظ بنا سکتے ہیں۔

کئی گھریلو ٹوٹکے بھی دانتوں کو محفوظ بنانے اور سفید رکھنے میں مددگار ہیں لیکن اگر آپ پیلے پڑتے دانتوں کی وجوہات جاننا چاہتے تو کسی ماہر کے پاس جانا ضروری ہے۔

ڈاکٹر کاسترو کہتے ہیں کہ گھریلو ٹوٹکے مفید ہیں لیکن دانتوں کو چمکدار بنانے کے لیے ٹیلی ویژن پر آنے والے اشتہارات جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock

گھریلو اور بیوٹی سیلون کے خطرات

ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ’ کسی بھی دوسری چیز کے بجائے ڈاکٹر کے پاس جانا بہترین ہے تاکہ مسئلے کی وجہ معلوم ہو سکے۔‘

گھریلو ٹوٹکے میں سوڈے اور لیموں کو استعمال کیا جاتا ہے ڈاکٹر کاسترو کہتے ہیں کہ اس ٹوٹکے کو استعمال کرتے ہوئے بہت احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ اس میں تیزاب ہوتا ہے یہ بلکہ ایسا ہے جیسے ریگ مال سے دانتوں کو رگڑا جائے۔

دانت سفید بنانے والے ٹوٹھ پیسٹ

ڈاکٹر کاسترو کا کہنا ہے کہ رنگت کا جھانسے دینے والے طریقوں میں ٹوٹھ پیسٹ میں بنفشہ ذرات موجود ہوتے ہیں جو دانت میں سرایت کر جاتے ہیں۔

ماہرین نے دانت صاف ہونے کی خبط سے خبردار کیا ہے۔

ڈاکٹر کاسترو کا کہنا ہے کہ ’مریض ہمیشہ دانتوں کی رنگت کے مسائل لے کر آتے اُن کے دماغ میں یہی ہوتا ہے کہ دانت کا سفید ہونا ہی صحت کی علامت ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ اصلی کیا ہے اور نقلی کیا۔

اسی بارے میں