ذیابیطس کے معمے کا آخری ٹکڑا دریافت کر لیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ذیابیطس قسم اول وہ بیماری ہے جو مدافعتی نظام کے غلطی سے خود جسم کے انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو تباہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے

سائنس دانوں نے ان اجزا کی نقشہ بندی مکمل کر لی ہے جنھیں مدافعتی نظام نشانہ بنا کر ذیابیطس کی ٹائپ ون قسم پیدا کر دیتا ہے۔

طبی جریدے ’ڈایابیٹیز‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اس پانچویں اور آخری حصے کی نشاندہی ہو گئی ہے جسے مدافعتی نظام غلطی سے ہدف بناتا ہے۔

٭ ذیابیطس کے علاج میں زبردست پیش رفت

٭ بچوں میں ذیابیطس قسم اول پر قابو پانے کے لیے تحقیق

برطانیہ کی یونیورسٹی آف لنکن سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ذیابیطس کے علاج کے نئے طریقے دریافت کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ذیابیطس ٹائپ ون یا قسم اول میں مدافعتی نظام ان خلیوں کو تباہ کر دیتا ہے جو انسولین بناتے ہیں۔ انسولین وہ ہارمون ہے جو جسم میں شکر کی مقدار کو قابو میں رکھتا ہے۔

اس سے پہلی کی جانے والی تحقیق سے یہ تو معلوم ہو چکا تھا کہ مدافعتی نظام پانچ قسم کے اہداف کو نشانہ بناتا ہے۔ ان میں سے چار دریافت کر لیے گئے تھے لیکن پانچویں کی شناخت دو عشروں تک صیغۂ راز میں تھی۔

تحقیق کار ڈاکٹر مائیکل کرسٹی نے بی بی سی کو بتایا: ’اس نئی دریافت سے ہم نے سارے اہداف شناخت کر لیے ہیں اور ہمارے سامنے مکمل تصویر آ گئی ہے۔‘

یہ پانچواں ہدف ٹیٹراسپینن 7 نامی پروٹین ہے جو انسولین ہارمون کی ترسیل میں کام آتی ہے۔

ان اہداف کے بارے میں حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر کنگز کالج لندن میں ذیابیطس قسم اول کو روکنے کے لیے پہلے ہی کام ہو رہا ہے۔

لیکن ڈاکٹر کرسٹی کہتے ہیں کہ مکمل تصویر سامنے آنے سے قسم اول کے مریضوں کے علاج میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے: ’جب مدافعتی نظام کسی چیز کی تباہی کا تہیہ کر لے تو اسے روکنا بہت مشکل ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ذیابیطس کا علاج بہت مشکل رہا ہے۔ اس لیے ہم پرامید ہیں کہ بیماری کے اہم اہداف کی شناخت سے ہم مریض کو کمزور کیے بغیر مدافعتی نظام کے ردِعمل کو مسدود کرنے کے طریقے دریافت کر سکیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ SPL

ڈایابیٹیز یو کے کی ڈاکٹر امیلی برنز کہتی ہیں: ’ذیابیطس قسم اول کے علاج کے لیے مدافعتی نظام کے ردِعمل کو مکمل طور پر سمجھنا ضروری ہے جو انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر کرسٹی کی متاثرکن تحقیق سے ہمیں اس میں مدد ملے گی۔‘

اسی بارے میں