خلا سے لندن میراتھن میں شرکت کی تیاری

تصویر کے کاپی رائٹ Esa
Image caption میجر پیک لندن میراتھن کے دیگر کھلاڑی کے ہمراہ 24 اپریل کو جی ایم ٹی وقت کے مطابق صبح دس بجے بھاگنا شروع کریں گے

برطانوی خلاباز ٹم پیک لندن میراتھن جتنا فاصلہ بین الاقوامی سپیس سٹیشن میں ایک ٹریڈ مل (دوڑنے کی ورزش مشین) پر طے کریں گے۔

خلا میں وزن کی کمی کے باعث وہ خود کو بھاگنے والی جگہ پر قائم رکھنے کے لیے لگام یا خصوصی بیلٹ کا استعمال بھی کریں گے۔

وہ مقررہ 42 کلومیٹر کا فاصلہ طے کریں گے اور اس کا آغاز اسی وقت ہوگا جب 24 اپریل کو لندن میراتھن کے دیگر کھلاڑی دوڑنا شروع کریں گے۔

میجر پیک کا کہنا ہے کہ ’میں اس کے لیے تیار ہوں۔ یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔‘

سپیس سٹیشن کے ٹرانکوئلٹی نوڈ میں الاسٹک کی پٹیاں ان کے کندھوں اور کمر کے گرد ہونے کے باعث وہ بھاگنے والی بیلٹ پر اپنا توازن قائم رکھ سکیں گے۔

یہ پٹیاں اس انداز سے تیار کی جاتی ہے جس سے کش ثقل کی عدم موجودگی میں خلابازوں کی ہڈیوں اور پٹھوں کو ورزش کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے سے سب سے بڑا چیلنج لگام کا نظام ہے۔ بلاشبہ، میرے جسم کا وزن لگام کی مدد سے ٹریڈمل کے ساتھ جڑا رہنا ضروری ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ NASA SPL
Image caption بین الاقوامی سپیس سٹیشن زمین کے گرد 28,800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہا ہے

میجر پیک کا کہنا ہے کہ وہ اس سے پہلے میں بین الاقوامی سپیس سٹیشن میں کچھ نامکمل میراتھنوں میں حصہ لے چکے ہیں۔

انھوں نے سنہ 1999 میں لندن میراتھن میں حصہ لیا تھا اور مقررہ فاصلہ تین گھنٹے 18 منٹ اور 50 سیکنڈز میں مکمل کیا تھا۔

تاہم وہ اپنے اس ریکارڈ کو توڑنے کی کوشش نہیں کریں گے کیونکہ ان کی طبی ٹیم اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے وہ کہ جون میں زمین پر واپسی تک مکمل صحت مند رہیں۔

خیال رہے کہ بین الاقوامی سپیس سٹیشن زمین کے گرد 28,800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہا ہے، چنانچہ توقع ہے کہ میجر پیک اس دوڑ کے دوران ایک لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بہترین ریکارڈ کے بارے میں نہیں سوچ رہے تاہم ان کا ارادہ ہے کہ وہ یہ فاصلہ چار گھنٹے سے کم وقت میں طے کریں۔

میجر پیک لندن میراتھن کے دیگر کھلاڑی کے ہمراہ 24 اپریل کو جی ایم ٹی وقت کے مطابق صبح دس بجے بھاگنا شروع کریں گے۔

اسی بارے میں