سولر امپلس کا بحرالکاہل کا سفر مکمل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption طیارہ سولر امپلس ہوائی سے جمعرات کو اڑا تھا

شمشی توانائی سے چلنے والے طیارے سولر امپلس نے بحرالکاہل کے اوپر اپنی تین دن کی پرواز مکمل کر لی ہے۔

کیلیفورنیا میں اترنے سے قبل یہ سان فرانسسکو کے گولڈن گیٹ برج کے اوپر سے سنیچر کی شام گزرا۔

خیال رہے کہ طیارے نے آٹھ ماہ بعد ہوائی سے جمعرات کو پرواز کیا تھا۔ اس سے قبل جاپان سے پرواز کے دوران اس کی بیٹریوں کو نقصان پہنچا تھا اور یہ آٹھ ماہ تک مرمت کے مرحلے میں تھا۔

مکمل طور پر شمشی توانائی والے اس طیارے سے دنیا کا ایک چکر پورا کرنے کا منصوبہ ہے اور یہ مرحلہ وار طور پر پورا کیا جانا ہے اور یہ تیارے کا نواں مرحلہ تھا۔

طیارے کے پائلٹ برٹرینڈ پیکارڈ نے خلیج سان فرانسسکو کے اوپر سے پرواز کرنے کے فورا بعد کہا: ’میں نے پل عبور کر لیا ہے اور میں سرکاری طور پر امریکہ میں ہوں۔‘

سولر امپلس نے گذشتہ سال مارچ میں ابوظہبی سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ اور مرحلہ وار طور پر اس ایک شخص کی گنجائش والے طیارے کو دو پائلٹ چلا رہے ہیں۔

پکارڈ اس طیارے کو سلیکون ویلی میں موفیٹ ایئر فیلڈ میں اتاریں گے اور ہوا کی تیزی میں کمی ہونے تک اس کی لینڈنگ میں تاخیر کی گئی ہے۔

طیارے کی کم رفتار، ہلکے وزن اور 72 میٹر کے پروں کی وجہ سے یہ طیارہ صرف مخصوص موسمی حالات میں سفر کر سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SOLAR IMPULSE
Image caption اسے دو پائلٹ باری باری سے چلا رہے ہیں

شمسی توانائی حاصل کرنے کے لیے اس کے پروں پر 17 ہزار سولر سیلز نصب ہیں اور توانائی زخیرہ کرنے کے لیے لیتھیئم بیٹریاں بھی نصب ہیں تاکہ جہاز رات کو بھی پرواز کر سکے۔

نویں مرحلے میں اس نے چار ہزار کلو میٹر کا سفر طے کیا کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ابو ظہبی سے اڑکر یہ عمان، انڈیا، میانمار عبور کرتا ہوا چین پہنچا تھا۔ وہاں سے جاپان اور پھر وہاں سے ہوائی تک کا 8924 کلومیٹر کا پانچ دن اور پانچ راتوں پر مبنی لگاتار سفر طے کیا جو کہ کسی بھی تنہا طیارے کا اب تک کا طویل ترین سفر ہے۔

اسی بارے میں