’ایٹنگ ڈس آرڈر‘ کے شکار جاپانی مدد سے محروم

تصویر کے کاپی رائٹ

جاپان میں ڈاکٹروں کے مطابق ’ایٹنگ ڈس آرڈر‘ یا کھانے میں بےترتیبی کا شکار افراد طبّی اور نفسیاتی دونوں قسم کی مدد سے محروم ہیں۔

جاپان کی سوسائٹی فار ایٹنگ ڈس آرڈرز کے مطابق لڑکیوں پر پتلے ہونے کا دباؤ حد سے بڑھ چکا ہے اور ملک کا طبی نظام ایسے افراد کی مدد میں ناکام ہو رہا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور یہ جاننے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ بیماری کس حد تک پھیل چکی ہے۔

اس بیماری کا شکار ایک لڑکی موکوٹو (فرضی نام) کا کہنا تھا کہ ’بچپن میں مجھے اپنے موٹاپے سے نفرت تھی۔ دوسرے بچے مجھے بہت چھیڑا کرتے تھے اور میں بدلنا چاہتی تھی۔‘

موکوٹو 16 سال کی تھیں جب وہ کھانے میں بےترتیبی کی بیماری کا شکار ہوئیں۔

انھوں نے اپنی خوراک بہت کم کر دی اور شدید ورزش شروع کر دی۔

19 سال کی عمر تک ان کا وزن خطرناک حد تک کم ہوچکا تھا اور ان کے والدین کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اپنی بیٹی کی مدد کس طرح کریں۔

موکوٹو کا کہنا ہے کہ ’میری بیماری کے متعلق ان (والدین) کا رویہ بہت منفی رہا اور جب میں نے کوشش کی کہ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کروں تو انھوں نے مجھے اس سے منع کیا۔‘

’میری والدہ اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتی تھیں اور میرے والد بھی انھیں قصوروار ٹھہراتے تھے۔‘

موٹوکو کی کہانی جانی پہچانی ہے۔ ایٹنگ ڈس آرڈر سے جڑی بدنامی مریضوں اور ان کے خاندان والوں کو منظر عام تک آنے سے روکتی ہے۔

ماہر ذہنی امراض ڈاکٹر آیا نشنزو ماہر جاپان سوسائٹی فار ایٹنگ ڈسارڈرز کی ممبر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’ لوگوں کو لگتا ہے کہ کھانا کھانا اور پھر قے کر دینا (بولیمیا نامی بیماری) نہایت شرمناک ہے۔‘

دس سال بعد اب موٹوکو نے آخرکار اس مدد کے حصول کے لیے رجوع کیا جس کی انھیں ضرورت تھی اور حکومت سے مدد لینے والے ایک ایسے ادارے کا حصہ بننی ہیں جس میں ایسے لوگ شامل ہیں جو اسی بیماری سے دو چار ہیں اور ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔

اب ان کی شادی ہو چکی ہے اور ایک بیٹا بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سے ان کا علاج ہوا ان کی زندگی میں بہتری آئی ہے۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

جاپان میں فیملی ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا نظام نہیں ہے لہٰذا یہ مریض اور ان کے خاندان والوں پر منحصر ہے کہ وہ صورت حال کو خود سمجھیں اور خود ہی نفسیاتی مدد حاصل کریں۔

جاپان میں اس بیماری کی سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر ٹوشی اشیکوا کا کہنا ہے کہ ’جب تک مریض کا ہسپتال میں معائنہ کیا جاتا ہے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ ان کی حالت بہت تشویش ناک ہوتی ہے بعض اوقات تو وہ قریب المرگ ہوتے ہیں۔‘

حکومت تسلیم کرتی ہے کہ ان کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ حکومت نے سنہ 2014 میں ایک منصوبہ بنایا تاکہ مسئلے کے وسعت اور اس کے پھیلاؤ سے متعلق اندازہ لگایا جا سکے۔

وزارت صحت، محنت اور بہبود کے ڈپٹی ڈائریکٹر تاکانوبو ماٹسوزاکی نےکہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں میں وسیع طور پر اس بیماری سے متعلق معلومات ہوں۔‘

حکومت کئی ایسی خیراتی اداروں کی حمایت کرتی ہے جو کھانے میں بےترتیبی کی بیماری کا حل ڈھونڈ رہے ہیں۔ ماٹسوز کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس قسم کی سہولیات زیادہ سے زیادہ مہیا ہوں۔

’ایک عمومی ثقافتی قدر یہ ہے کہ ’دبلا پن خوبصورتی ہے۔یہ اب حد سے بڑھ چکی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کا جائزہ لیا جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

جاپان کا پہلا اور واحد رسالہ جو بھرے جسم کی لڑکیوں کے لیے ہے، لوگوں کو ترغیب دلاتا ہے کہ ہر شکل اور سائز کے جسموں کو سمجھیں اور ان کی خوشی منائیں دبلے پن کو ہی اچھا نہ سمجھیں جس کا چرچا میڈیا میں ہوتا ہے۔

’لا فرافا‘ نامی رسالے کی ایڈیٹر ان چیف ہارومی کون نے دو سال پہلے اس جریدے کی اشاعت شروع کی جب ان کو خود اپنے جسم کو پسند کرنے کے لیے کوشش کرنا پڑی۔

انھوں نے کہا ’جب میں بچی تھی تو میں اپنے موٹے جسم کی وجہ سے بہت پریشان اور شرمندہ ہوتی تھی۔ اب 15 سال گزر چکے ہیں لیکن لڑکیاں اب بھی اسی طرح محسوسں کرتی ہیں۔ یہ درست نہیں ہے۔ میں لڑکیوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ جیسی بھی ہو خوش رہوں اور صحت مند رہو۔‘

اسی بارے میں