یو ٹیوب کی طرز پر فل سکرین کا پیڈ پورٹل

تصویر کے کاپی رائٹ J and D
Image caption ڈین ڈوبس اور جیک ہووارڈ یوٹیوب پر معروف ہیں

انٹرنیٹ پر ٹیلنٹ کو فروغ دینے والی کمپنی فُل سکرین نے اپنے حریف یوٹیوب کی طرز پر اپنے ذاتی ویڈیو سبسکرپشن پلیٹ فارم کا آغاز کیا ہے۔

اب تک فُل سکرین سوشل میڈیا ٹیلنٹ کے ساتھ مفت پلیٹ فارمز جیسے انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور یوٹیوب کے ساتھ کام کرچکا ہے۔

لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ اشتہار بازی کے پلیٹ فارمز پر پریمیم (اعلیٰ درجے کی) ویڈیوز پیش کرنے کا ’کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘

فُل سکرین خود کو ’جدید میڈیا کمپنی‘ کے طور پر بیان کرتا ہے جو کہ جزوی طور پر ٹیلنٹ ایجنسی بھی ہے اور جزوی طور پر مواد کی تخلیق بھی کرتا ہے۔ اس کی فہرست میں 75 ہزار شراکت دار شامل ہیں جو زیادہ تر یوٹیوب کے ذریعے حاصل ہوئے ہیں۔

کمپنی روایتی طور پر اپنے ٹیلنٹ کے لیے اشتہاری معاہدوں کے سودوں کے ذریعے سے پیسے کماتی ہے۔ جس کے تحت وہ چھوٹے درجے کے ویڈیو بنانے والوں کی مدد کرتی ہے جس کے بدلے میں اپنے بڑے سٹارز کے لیے ٹکٹ کی فروخت اور تجارتی سودوں کے بدلے وہ اُن کی اشتہاری آمدنی میں سے کچھ حصہ لیتی ہے۔

لیکن اس کا کہنا ہے کہ اُنھیں اپنا ذاتی سبسکرپشن ویڈیو پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ویڈیو بنانے والے ’اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کی خواہشات کی تکمیل کرسکیں۔‘

فُل سکرین کے بانی جارج سٹروم پولوس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سماجی میڈیا شائقین کی ایک بڑی تعداد کو مصروف رکھنے کے لیے فوری اور سستے مواد بنانے کے لیے بہت اچھی جگہ ہے۔

’لیکن جب کسی طویل شکل یا پھر پریمیم تخلیقات کی بات ہو تو اسے مفت ویب سائٹ پر پیش کرنے سے کام نہیں بنتا۔ ہمیں اس کام کے لیے ایک نفع بخش پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جو کہ اعلیٰ معیار کا ہو۔‘

بہت بڑی تعداد میں صارفین مہنگے کیبل ٹیلیویژن پیکجز کو رد کررہے ہیں اور اس کے بجائے انفرادی سٹریمنگ سروسز کو حاصل کر رہے ہیں جنھیں اوور دا ٹاپ سروسز یا اعلیٰ معیار کی سروسز کہا جاتا ہے۔

اکتوبر سنہ 2015 میں گوگل نے پریمیم ویڈیو سروس کے ذریعے ایک نئی مارکیٹ پر قبضے کے لیے قدم اٹھایا تھا جس کا نام یوٹیوب ریڈ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فُل سکرین خود کو ’جدید میڈیا کمپنی‘ کے طور پر بیان کرتا ہے

اس کے تحت نمایاں ویڈیوز کے طویل ورژن صارفین کو فراہم ہوتے ہیں تاہم ابھی تک گوگل نے یہ نہیں ظاہر کیا ہے کہ اب تک اس کے کتنے پیڈ ممبر بنے ہیں۔

برطانوی مزاحیہ اداکارجیک ہاورڈ اور ڈین ڈوبس اور امریکی وولوگر شین ڈیوسن کا شمار مشہور ویڈیو بنانے والوں میں ہوتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ آن لائن پر اصلی مواد کی پیشکش کی ٹیلی ویژن اور فلم سٹوڈیوز کے روایتی ٹیلی ویژن پروگرامز کے ذریعے سے مستحکم کرے گی۔

ٹیلنٹ کو بااختیار بنانا

اینڈرز میں ایک صنعتی تجزیہ نگار ٹام ہیرنگٹن کہتے ہیں ’فُل سکرین کے پاس یوٹیوب پر موجود نامور چینلوں کی چھتری ہے لیکن یہ بذاتِ خود کوئی بہت زیادہ مشہور نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ تیزی سے ترقی پذیر بازار ہے اور یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ یہ بھی ایمیزون، ڈزنی یا نیٹ فلیکس جیسی پذیرائی حاصل کرپائیں گے۔‘

سٹروموپولوس کو یقین ہے کہ اس سروس کو سامعین مل جائیں گے۔

سٹروموپولوس کا کہنا ہے کہ ’ نئی نسل سماجی میڈیا پر پروان چڑھ رہی ہے اور گریس ہیل بِگ، جیک اور ڈین جیسے سٹارز کی محبت میں مبتلا ہے۔

’اس کے تحت تخلیق کار کا پرستار ہوتے ہوئے آپ انھیں نئی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے بااختیار بنا رہے ہیں۔ آپ انھیں اس جگہ تک لے جارہے ہیں جہاں وہ اپنے خواب کی تکیمل کر سکتے ہیں۔

’لیکن ہم اپنے ٹیلنٹ کو بھی با اختیار بنانا چاہتے ہیں، انھیں اہم تجربات سے ہمکنار کرنا اور دوستانہ تعاون فراہم کرنا چاہتے ہیں۔‘

اسی بارے میں