جین تھیراپی کی مدد سے نابیناپن کا علاج

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

برطانوی سائنسدانوں نے ایک جینیاتی طریقۂ علاج (جین تھیراپی) کی مدد سے ان مریضوں کی نظر بحال کی ہے جن کے نابینا ہونے کا خدشہ تھا۔

سائنس دانوں کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ طریقہ دیرپا ہے اس لیے اسے بطور علاج استعمال کیا جا سکتا ہے۔

٭ سٹیم سیلز کی مدد سے بینائی کی بحالی

٭ یورپ میں پہلی بار جین تھیراپی منظور

سائنس دان بعض عام اقسام کے نابیناپن کے علاج کے لیے اگلے سال اس کے تجربات شروع کر دیں گے۔

اس طریقۂ علاج میں آنکھ کے پچھلے حصے میں ایک فعال جین داخل کر دیا جاتا ہے جن سے خلیوں کا از سرِ نو احیا شروع ہو جاتا ہے۔

اس طریقۂ علاج کو گذشتہ ساڑھے چار سال تک برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور جرمنی میں 32 مریضوں پر آزمایا گیا۔

Image caption جو پیپر رفتہ رفتہ نابینا پن کا شکار ہو رہے تھے کہ اس جینیاتی علاج نے ان کی نظر بچا لی

اوکسفرڈ یونیورسٹی میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایک ایسی بیماری کا علاج کیا جو نوجوانوں کو متاثر کرتی ہے اور اس میں ایک ناکارہ جین کی وجہ سے آنکھ کے خلیے مرنے لگتے ہیں اور یہ مریض رفتہ رفتہ نابینا ہو جاتے ہیں۔

اب تک اس مرض کا کوئی علاج نہیں تھا۔

سائنس دانوں نے دیکھا کہ اس طریقۂ علاج سے نہ صرف بیماری رک گئی بلکہ اس سے بعض مرتے ہوئے خلیے دوبارہ صحت مند ہو گئے اور مریض کی بینائی بہتر ہو گئی۔

تجربات سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ یہ طریقۂ علاج دیرپا بھی ہے۔

پہلے مریض کا علاج ساڑھے چار سال قبل ہوا تھا اور ان کی بینائی میں اب تک کوئی فرق نہیں پڑا۔ اس کی بجائے ان کی نظر میں بہتری آتی جا رہی ہے۔

تحقیق کے سربراہ پروفیسر میک لارین نے بی بی سی کو بتایا: ’کسی بیماری کا جینیاتی سطح پر علاج اس سے نمٹنے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ ہم زیادہ عام اقسام کے نابینا پن کے لیے بھی علاج تیار کر رہے ہیں جو اگلے پانچ سے دس سال تک دستیاب ہو جائے گا۔‘

اسی بارے میں