پروسٹیٹ کینسر سے لڑنے کے لیے نئی دوا دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ SPL

برطانیہ کے انسٹیٹیوٹ آف کینسر ریسرچ کا کہنا ہے کہ ایک نئی دوا پروسٹیٹ کینسر کے مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔

چوہوں پر کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ ایچ ایس پی 90 نامی دوا کینسر کے خلیوں کو کمزور بنا دیتی ہے۔

ریسرچ ٹیم کا کہنا ہے کہ اس سے کینسر کے علاج کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

برطانیہ میں مردوں میں پروسٹیٹ کینسر خاصا عام ہے۔ پروسٹیٹ کینسر زیادہ تر 50 سال کی عمر سے زیادہ مردوں کو ہوتا ہے اور برطانیہ میں ہر آٹھ میں سے ایک مرد کو یہ مرض ہے۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ کئی بار ہارمون کی مدد سے علاج سے کینسر کا علاج کیا جا سکتا ہے، تاہم پروسٹیٹ کینسر مختلف ہے، کیونکہ اس کینسر کا تعلق ہارمون سے نہیں ہے اور اسی لیے ہارمون کی مدد سے علاج مددگار ثابت نہیں ہوتا۔

کینسر ریسرچ جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ نئی دوا پروسٹیٹ کینسر کے علاج میں مددگار ثابت ہو گی۔

اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر پال ورکمین کا کہنا ہے کہ یہ ایک اچھی دریافت ہے۔

’ایچ ایس پی 90 دوا کینسر کو زیادہ بہتر طریقے سے نشانہ بناتا ہے۔ اگلا قدم کینسر کے مریضوں پر ٹیسٹ ہے۔‘

انسٹیٹیوٹ آف کینسر ریسرچ کے پروفیسر جوہان ڈی بونو کا کہنا ہے: ’اس دوا کی مدد سے کئی قسم کے کینسر کے خلاف لڑنے کے لیے تجربے کیے جا رہے ہیں۔ اور مجھے خوشی ہے کہ ہماری تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ دوا پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے جن کے علاج کے لیے آپشنز کم ہوتی جا رہی ہیں۔‘

اسی بارے میں