دس سالہ بچے نے انسٹا گرام ہیک کر لیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فیس بک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ سنہ 2011 سے اب تک نقائص کی نشاندہی پر 43 لاکھ ڈالر انعامی رقم کے طور پر لوگوں کو دے چکا ہے

فن لینڈ کے ایک 10 سالہ بچے کو سماجی رابطے کی سائٹ انسٹا گرام میں سکیورٹی کے نقص کی نشاندہی کرنے پر 10000 ڈالر بطور انعام دیے گئے ہیں۔

تکنیکی طور پر ابھی یہ بچہ مزید تین سال تک خود اس سائٹ کو استعمال نہیں سکتا لیکن اس نے ایسے نقص کا پتا چلایا جس کی مدد سے وہ دوسرے صارفین کے کمنٹس کو ڈیلیٹ کر سکتا ہے۔

انسٹا گرام کی مالک کمپنی فیس بک کا کہنا ہے کہ اس نقص کو نشاندہی کے فوراً بعد ٹھیک کر دیا گیا۔

جانی نامی اس بچے کو فورا ہی انعامی رقم دی گئی وہ کمپنی کی ’بگ باؤنٹی‘ رقم حاصل کرنے والے کم عمر ترین فرد بن گئے ہیں۔

انھوں نے فروری میں اس خامی کا پتا چلانے کے بعد فیس بک کو ای میل کیا تھا۔

سکیورٹی انجینیئرز نے جانی کے لیے ایک اکاؤنٹ بنایا تاکہ وہ اپنے اس دعوے کو ثابت کریں جو انھوں نے کر دکھایا۔

فنلینڈ کے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے جانی کا کہنا تھا کہ وہ اس انعامی رقم سے سائیکل، فٹ بال کا سامان اور اپنے بھائیوں کے لیے کمپوٹرز خریدیں گے۔

فیس بک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ سنہ 2011 سے اب تک نقائص کی نشاندہی پر 43 لاکھ ڈالر انعامی رقم کے طور پر لوگوں کو دے چکا ہے۔

کئی کمپنیاں نوجوانوں کو ایسی نقائص کی نشاندہی پر انعامی رقم کی پیشکش کرتی ہیں تاکہ وہ انھیں بلیک مارکیٹ میں فروخت نہ کریں۔

اسی بارے میں