انڈیا میں مرنا ہو تو کہاں مریں

تصویر کے کاپی رائٹ Suresh Kumar and EHOSPICE
Image caption کیرالا میں ہزاروں رضاکار شدید بیمار مریضوں کی دیکھ بھال میں ہاتھ بٹاتے ہیں

جوں جوں لوگوں کی عمر میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، ویسے ہی دنیا بھر میں زندگی کے آخری لمحات میں معیاری سہولیات کی طلب بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں منگولیا اور یوگینڈا جیسے ملکوں کی اس معاملے میں تعریف کی گئی ہے کہ وہاں قریب الموت مریضوں کی دیکھ بھال کی سہولیات میں بہتری آئی ہے۔ ان ملکوں میں درد کی شدت کم کرنے اور کینسر، ایڈز اور فالج جیسے امراض میں مبتلا مریضوں میں درد سے نمٹنے پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

تاہم انڈیا میں صورتِ حال بہت مایوس کن ہے۔ بہت سے لوگ جنھیں سکون بخش دیکھ بھال کی ضرورت ہے، وہ انھیں نہیں ملتی اور وہ شدید درد کی حالت میں مر جاتے ہیں۔

گذشتہ برس جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق اختتامِ زندگی پر فراہم کی جانے والی سہولیات کے لحاظ سے انڈیا کا نمبر 80 ملکوں کی فہرست میں 67واں ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق برطانیہ مرنے کے لیے دنیا کا سب سے اچھا ملک ہے۔

انڈیا میں سہولیات، سپیشلسٹ ڈاکٹروں، اور آگاہی کی سخت کمی ہے۔ تاہم جنوبی ریاست کیرالا اس سلسلے میں استثنائی مثال کا درجہ رکھتی ہے۔

کیرالا میں قریب الموت مریضوں کے لیے جتنے سکون بخش مراکز ہیں، اتنے پورے ملک میں ملا کر بھی نہیں، اور اس کے وسیع پروگرام کو ہزاروں رضاکاروں کی خدمات حاصل ہیں جو ناقابلِ علاج مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے اپنا وقت دیتے ہیں۔

Image caption ایک بوڑھے مریض کو رضاکار اٹھا کر لے جا رہے ہیں

ہر ہفتے روپا اپاسارنا جیسے لوگ تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور نرسوں کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ مریضوں کو بستر پر پڑے پڑے زخم (بیڈ سور) تو نہیں ہو گئے، وہ انھیں کھانا پہنچاتے ہیں اور ان سے صرف بات چیت کر کے ان کی دلجوئی کرتے ہیں۔

روپا کہتی ہیں کہ وہ نہ صرف اپنے معاشرے کی خدمت کر رہی ہیں بلکہ اس سے انھیں 2014 میں اپنے خاوند کی موت کے بعد پڑنے والے تنہائی کے دوروں کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

طبی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایک اور بات جس سے بڑا فرق پڑا ہے جو یہ ہے کہ کیرالا کے ہسپتالوں میں اور ضرورت مند مریضوں کے گھروں میں مارفین موجود ہوتی ہے۔

انڈیا میں مارفین کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے کہ کہیں اسے نشہ آور دوا کے طور پر استعمال نہ کیا جائے، حالانکہ افیم سے بننے والی یہ دوا شدید درد سے نمٹنے کے لیے تیربہدف مانی جاتی ہے۔

تاہم کیرالا میں 20 سال قبل قانون میں کی جانے والی ایک تبدیلی سے مارفین کی فراہمی میں بہتری آئی ہے۔

55 سالہ زبیر کی دائیں ٹانگ کی ہڈی میں رسولی تھی جس کی وجہ سے ان کی ٹانگ کئی جگہوں سے کاٹنا پڑی۔ وہ شدید درد کا مقابلہ کرنے کے لیے 1994 سے مارفین استعمال کر رہے ہیں۔

ان کے ڈاکٹر راجہ گوپال کہتے ہیں کہ وہ ایک ایسے مریض کی مثال ہیں جنھیں زندگی کو خطرہ نہ ہونے کے باوجود مارفین دی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر راجہ گوپال کہتے ہیں کہ 99 فیصد ضرورت مند انڈینز کو مارفین نہیں ملتی، جس سے ’ان کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں اور وہ اکثر اوقات خودکشی کر لیتے ہیں۔‘ تاہم کالی کٹ کے رہنے والے زبیر کو ’مارفین نے نئی زندگی دی ہے۔‘

Image caption بہت سے قریب الموت مریض اپنے آخری لمحات میں اکیلے رہ جاتے ہیں

انڈیا میں دوسری ریاستیں بڑی حد تک موثر دردکش ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں، تاہم آہستہ آہستہ کیرالا سے باہر بھی اس سلسلے میں اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مغربی بنگال کے نادیہ ضلعے میں 2014 میں سینکڑوں دیہاتیوں کی مدد کے لیے گھروں کے اندر دیکھ بھال کا نظام شروع کیا گیا ہے۔

اس پروگرام کا نام ’سنجیونی‘ ہے جس کا سنسکرت میں مطلب ’زندگی بخش‘ ہے۔ اس کی مدد سے دیال درلاو جیسے مریضوں کو فائدہ پہنچا ہے جو کینسر کے مریض ہیں۔

62 سالہ دیال کے خاندان والوں نے ان کی دیکھ بھال کرنے سے انکار کر دیا تھا، کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی بیماری متعدی ہے۔

سنجیونی سے وابستہ رضاکار ایسے ہی خدشات اور اوہام دور کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’میں شکرگزار ہوں کہ وہ مجھے دیکھنے آتے ہیں۔ میں بوڑھا ہوں اور مجھے ان کی مدد کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں