’آلودہ ماحول میں بھی ورزش کرنا فائدہ مند ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock

ایک تحقیق کے مطابق آلودہ ماحول میں ورزش کی غرض سے سائیکل چلانے یا پیدل چلنے سے حاصل ہونے والے فوائد فضائی آلودگی سے پہنچنے والے نقصان دہ اثرات سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیمبرج کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق ایسے شہر میں جہاں فضائی آلودگی کی سطح زیادہ ہے، وہاں بھی یہ فوائد نقصان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔

٭ ’فضائی آلودگی صحتِ عامہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ‘

٭ آلودگی کی پیمائش کا سافٹ ویئر تیار

رائل کالج آف فزيشنز کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کی وجہ سے برطانیہ میں ہر سال 40,000 افراد زندگی کی بازی ہار دیتے ہیں اور جب کوئی ورزش کرتا ہے تو اسے پھیپھڑوں میں زیادہ ہوا بھرنا پڑتی ہے جو ممکنہ طور پر آلودہ ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف باقاعدہ ورزش سے ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور سرطان کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

محققین نے مختلف مقامات پر مختلف اقسام کی جسمانی سرگرمیوں اور فضائی آلودگی کے خطرات اور فوائد کا موازنہ کرنے کے لیے کمپیوٹر سیمولیشن کا سہارا لیا۔

یونیورسٹی آف کیمبرج کی یہ تحقیق پریوینٹو میڈیسن نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

محققین کو پتہ چلا کہ کسی شہری علاقے میں اوسط فضائی آلودگی کے خطرات ورزش کی غرض سے سات گھنٹے تک سائیکل چلانے یا 16 گھنٹے پیدل چلنے کے بعد شروع ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے سربراہ ڈاکر مارکو کا کہنا ہے کہ دہلی، جس کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے اور جہاں آلودگی کی سطح لندن کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہے، وہاں لوگوں کو جسمانی فوائد حاصل کرنے کے لیے فی ہفتہ پانچ گھنٹے تک سائیکل چلانے کی ضرورت ہے۔

البتہ ایسے ماحول میں بہت زیادہ دیر تک ورزش کرنے سے الٹا نقصان ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر مارکو کے مطابق: ’ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بہت آلودہ شہروں میں کام کرنے والوں کی ایک چھوٹی سی اقلیت، مثلاً سائیکل سوار پیغام رسانوں کو بہت زیادہ آلودگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے انھیں ورزش سے پہنچنے والے فوائد ختم ہو سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں