اونٹ پر لکھی تجارتی راستوں کی تاریخ

صدیوں سے انسان کے سب سے اہم پالتو جانور، اونٹ کے ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ اس کی جینیاتی ترکیب پر ان تجارتی راستوں کے اثرات مرتب ہوئے ہیں جن پر یہ سالہا سال انسان کے ساتھ سفر کرتا رہا ہے۔

اس مطالعے کے لیے سائنسدانوں نے ایک کوہان والے ’ڈرومڈری‘ قسم کے ایک ہزار سے زائد اونٹوں کے ’ڈی این اے‘ کے نمونوں کا جائزہ لیا۔

سائنسدانوں نے دیکھا کہ اگرچہ آج یہ اونٹ ایک دوسرے سے سینکڑوں میل دور رہ رہے ہیں لیکن ان کی جینیاتی ساخت میں مشابہت بہت زیادہ ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے اتنی دور دور رہنے والے اونٹوں کے ڈی این اے اتنے ’دھندلا‘ اس لیے گئے ہیں کہ صدیوں سے یہ اونٹ تجارتی قافلوں کے ساتھ دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سفر کرتے رہے ہیں۔

تحقیق کرنے والی ٹیم سے منسلک پروفیسر اولیور ہینوٹ کہتے ہیں کہ ان اونٹوں کے مطالعے کے بارے میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اونٹ کی تاریخ خود انسانوں کی تاریخ سے کتنی مطابقت رکھتی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ہوا یہ ہے کہ یہ اونٹ صدیوں سے انسان کے ہمسفر رہے ہیں اور یوں اونٹوں کے مطالعے سے خود ہماری اپنی تاریخ کی نشاندہی ہوتی ہے۔‘

صدیوں پر پھیلے انسانی سفر کے بارے میں مزید جاننے کے لیے تحقیقی ٹیم نے دنیا کے مختلف علاقوں سے اونٹوں کے جینیاتی مواد کا تقابلی جائزہ لیا۔

پروفیسر ہینوٹ کے بقول ’بین الاقوامی سطح پر اس تعاون کا فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں مغربی افریقہ، پاکستان، اومان اور حتیٰ کہ شام سے اونٹوں کے ڈی این اے کے نمونے جمع کرنے اور ان کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔‘

انسانی بوجھ اور اونٹ

ایک کوہان والے اونٹ کو انسان نے آج سے تقریباً تین ہزار قبل سدھانا اور باربرادی کے استعمال کرنا شروع کیا اور 20ویں صدی کے وسط تک بوجھ اٹھانے کے لیے بڑے پیمانے پر اونٹ ہی استعمال ہوتے رہے۔ کسی زمانے میں تجارتی قافلوں میں سینکڑوں اونٹ شامل ہوتے تھے جو شمالی افریقہ کے صحراؤں سے لےکر جزیرہ نما عرب تک سفر کرتے تھے۔

’تاجروں اور دیگر لوگوں کے یہ قافلے نہایت قیمتی ساز وسامان اونٹوں پر لاد کر سینکڑوں میل کا سفر کرتے تھے اور جب یہ قافلے بحیرہ روم کے ساحلوں تک پہنچتے تو اونٹ بری طرح نڈھال ہو چکے ہوتے تھے۔‘

’مسافر اپنے نڈھال اونٹوں کو یہاں چھوڑ دیتے اور واپسی کے سفر کے لیے تازہ دم اونٹ لے لیتے۔‘

صدیوں پر پھیلے ہوئے اونٹوں کے اس جینیاتی سفر کا نتجہ یہ نکلا کہ آج دنیا کے دور دراز علاقوں میں پائے جانے والے ’ڈرومڈری‘ اونٹوں کی جینیاتی ساخت ایک دوسرے سے حیران کن حد تک مشابہ ہے۔

اس مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اونٹ میں یہ صلاحیت دیگر جانوروں سے زیادہ ہے کہ وہ بدلتے ماحول کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے۔

پروفیسر ہینوٹ کہتے ہیں کہ ’ماحولیاتی تبدیلی کے اس دور میں درجہ حرارت تبدیل ہو رہے ہیں، اور زیادہ بڑی تبدیلی کی صورت میں کئی مقامات پر موسم انتہائی گرم یا انتہائی سرد ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ تبدیلی کئی مویشیوں اور پالتو جانوروں کے موزوں نہیں ہے۔

’ایسے میں ہماری دودھ اور گوشت کی ضروریات کے لیے اونٹ ایک اچھا ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔‘

’یہ اونٹ بھیڑ بکریوں اور ان جانوروں کی جگہ لے سکتے ہیں جو ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ اتنی اچھی طرح نہیں کر پاتے۔‘

اسی بارے میں