زیادہ وزن والے افراد ’دیر سے مرتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption برطانوی میٹابولک میڈیسن کے ماہرین نے ان کے اس خیال کو مسترد کر دیا ہے

ڈینمارک میں ہونے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اب موٹے ہونے سے شاید اتنی صحت خراب نہ ہو جتنی کہ 40 سال قبل ہو سکتی تھی۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ’جائز حد تک‘ زیادہ وزن والے افراد میں جلد اموات کی شرح نارمل وزن، کم وزن یا پھر بہت زیادہ وزن والے افراد کی نسبت کم ہے۔

جاما میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 1970 کی دہائی سے کئی ہزار افراد کے قد، وزن اور اموات کی شرح کا تین مختلف اوقات میں جائزہ لیا گیا ہے۔

برطانیہ کے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ موٹا ہونا صحت مند یا پسندیدہ ہو سکتا ہے اور موٹاپے سے بچنے کے لیے آگاہ کرتے رہنا چاہیے۔

کوپن ہیگنی یونیورسٹی کے ڈاکٹر کے مطابق 1970 کی دہائی میں اوسط وزن والوں میں شرح اموات کمی تھی اور موٹے افراد میں جلد مرنے کا خطرہ 30 فیصد تھا۔

لیکن اب موٹے افراد کو درپیش خطرات تقریباً ناقابل ذکر ہیں۔

تحقیق کے مصنف کا کہنا ہے کہ اس کی بہتر مثال کچھ یوں دی جا سکتی ہے کہ اب موٹاپے سے جڑی بیماریوں جن میں کولیسٹرول اور بلڈ پریشیر شامل ہیں کے لیے بہترین طبی نظام موجود ہے۔

تحقیق کار پروفیسر بورج نارڈیسٹگارڈ نے بتایا ہے کہ ’ہماری تحقیق کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب لوگ جتنا زیادہ چاہے کھائیں یا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نارمل وزن والے ہیں انھیں موٹا ہونے کے لیے مزید کھانے کی ضرورت ہے۔‘

ان کے مطابق: ’اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ وزن والے افراد کو پہلے کی نسبت اپنے وزن کو لے کر اب کم پریشان ہونے کی ضرورت ہے۔‘

ڈینمارک کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے کام سے عالمی سطح پر زیادہ وزن کی درجہ بندی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت موجود درجہ بندی دو دہائی پرانی ہے۔

تاہم برطانوی میٹابولک میڈیسن کے ماہرین نے ان کے اس خیال کو مسترد کر دیا ہے۔

یونیورسیٹی آف گلاسگو کے پروفیسر نوید ستار نے اس حوالے سے کہا کہ ’یہ تحقیق دلچسپ ہے لیکن اس کی وجہ سے موٹاپے، اس کے علاج اور احتیاط کے لیے ہمارے مشوروں میں تبدیلی نہیں آئے گی۔‘

’حالیہ تحقیق کا یہ مطلب نہیں ہے کہ موٹاپہ آپ کو موت سے زیادہ دیر بچا سکتا ہے۔‘

موٹاپے اور زیادہ وزن سے کئی بیماریوں کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ ٹائپ 2 ذیابیطیس، جگر کی بیماری، کینسر، سونے کے مسائل، حمل میں بعض مشکلات۔

’ہم ان میں سے بہت سی بیماریوں کا اب بہتر انداز میں اعلاج کر سکتے ہیں، ایسی مشکلات سے زندگی میں خرابیاں اور عزت نفس کے مسائل پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں صحت کی قمیت بڑھ جاتی ہے۔‘

اسی بارے میں