ہر چار میں سے ایک حمل کا خاتمہ اسقاطِ حمل پر

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت اور گوٹماکر انسٹی ٹیوٹ نے تخمینہ لگایا ہے کہ دنیا میں ہر چار میں سے ایک حمل کا خاتمہ اسقاطِ حمل پر ہوتا ہے۔

طبی جریدے لانسٹ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ہر سال پانچ کروڑ 60 لاکھ اسقاطِ حمل کروائے جاتے ہیں۔ یہ تعداد گذشتہ اندازوں سے زیادہ ہے۔

ماہرین نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے نئے مانعِ حمل طریقے وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اسقاطِ حمل کی تعداد 1990 تا 1994 پانچ کروڑ فی سال تھی، جو 2010 تا 2014 بڑھ کر پانچ کروڑ 60 لاکھ فی سال ہو گئی۔

یہ اضافہ زیادہ تر ترقی پذیر دنیا میں دیکھنے میں آیا ہے، اور اس کے پیچھے آبادی میں اضافہ اور چھوٹے خاندانوں کی خواہش کا عمل دخل ہے۔

ماہرین کے مطابق اسقاطِ حمل کی شرح مختلف ملکوں میں ایک جیسی تھی، قطعِ نظر اس بات کے کہ ان ملکوں میں یہ عمل قانونی ہے یا غیرقانونی۔

ان کا کہنا ہے کہ اسقاطِ حمل کے خلاف قانون سے اس کی شرح پر اثر نہیں پڑتا، اور اس کی بجائے لوگوں کو غیرقانونی اور غیرمحفوظ طریقے اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ اسقاطِ حمل لاطینی امریکہ کے ملکوں میں کروائے جاتے ہیں جہاں ہر تین میں سے ایک حمل کا خاتمہ اس طرح ہوتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اس بات کا امکان ہے کہ بعض ملکوں میں اسقاطِ حمل کی شرح اس لیے زیادہ ہے کہ وہاں کے لوگوں کو مانعِ حمل طریقوں کا علم ہی نہیں ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے ڈاکٹر بیلا گیناترا کہتے ہیں: ’ہماری تحقیق میں اسقاطِ حمل کی بلند شرح اس بات کے مزید شواہد فراہم کرتی ہے کہ ہمیں لوگوں تک موثر مانعِ حمل طریقوں کی رسائی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

’بےطلب حمل اور غیرمحفوظ اسقاطِ حمل کے مقابلے پر جدید مانعِ حمل طریقے عورتوں اور معاشرے کو بہت کم مہنگے پڑتے ہیں۔‘

تاہم مانعِ حمل طریقوں تک رسائی بہتر بنانا بھی مسئلے کا حتمی حل نہیں ہے۔ بہت سی عورتیں سمجھتی ہیں کہ ان طریقوں کے مضر اثرات ہوتے ہیں، یا وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے حاملہ ہونے کے امکانات کم ہیں۔

اسی بارے میں