سرطان کے مریضوں سے خون کے عطیے کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ SCIENCE PHOTO LIBRARY

برطانیہ میں سرطان کے قریب الموت مریضوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد اپنے خون اور ٹشو کے نمونوں پر تحقیق کے لیے انھیں عطیہ کر دیں۔

اس عطیے کا مقصد یہ جاننا ہے کہ رسولی پھیلنے کی وجوہات کیا ہیں اور اس بیماری کی آخری درجہ بندی میں کیا ہوتا ہے۔

برطانیہ کے ادارے کینسر ریسرچ نے اس تحقیق کے لیے رقم فراہم کی ہے اور وہ 500 مریضوں کو اس میں شامل کرنا چاہتی ہے۔

٭ ’ایسپرین کی محدود خوراک کینسر کےعلاج میں مددگار‘

برطانیہ کے کیمبرج، گلاسگو، اوکسفرڈ، مانچسٹر، لیسٹر اور لندن کے ہسپتال اس تحقیق میں حصہ لے رہے ہیں اور اسے رواں برس اکتوبر سے مریضوں کے لیے عام کر دیا جائے گا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے انھیں اس بارے میں پتہ چلے گا کہ مریضوں کے علاج کے دوران رسولی مزاحمت کیوں کرتی ہے اور اس سے لڑنے کے لیے جسم کے مدافعتی نظام کی مضبوطی کے لیے کون سے ممکنہ طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔

اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر چارلس سوانٹن، یونیورسٹی کالج لندن کینسر انسٹی ٹیوٹ اور فرانسس کرِک انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ وہ ایسے تمام مریضوں اور ان کے خاندانوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے اس تحقیق میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے مریضوں کی فراخدلی سے سائنس دان تحقیق کر کے مستقبل میں دیگر مریضوں کی جان بچا سکیں گے۔

پروفیسر چارلس سوانٹن کے مطابق اس تحقیق سے پہلے ہمیں مریض کی زندگی کے آخر میں قومی سطح پر سرطان کی متعدد سائٹس سے نمونے لینے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس تحقیق سے ہمیں سرطان کی تصویر مکمل کرنے میں مدد ملے گی۔

برطانیہ کے کینسر ریسرچ فنڈنگ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایئن فولکس کا کہنا ہے کہ اس سے مستقبل میں ہزاروں افراد کو فائدہ ہو گا۔

اسی بارے میں