انڈیا میں دریاؤں کا رُخ موڑنے کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انڈیا میں موسمی حدت میں اضافہ خشک سالی کا سبب بن رہا ہیں جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے

انڈیا میں پانی کےمحکمے کی وزیر اُوما بھارتی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملک میں شدید خشک سالی سے نمٹنے کے لیے دریاؤں کا رخ تبدیل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

اُوما بھارتی کا کہنا ہے کہ برہم پترا اور گنگا سمیت بڑے دریاؤں سے پانی کو خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کی طرف موڑا جائے گا اور یہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انڈیا میں اس وقت کم سے کم 33 کروڑ افراد خشک سالی سے متاثر ہیں۔

ماحولیاتی حدت میں اضافہ انڈیا میں خشک سالی کا سبب بن رہا ہے جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے۔

دریاؤں کے پانی کے بہاؤ کو تبدیل کرنے کےلیے 30 مقامات کو چناگیا ہے جن میں سے 14 شمال میں ہمالیہ کے برفانی تودوں سے آنے والے پانیوں پر ہیں جبکہ 16 دیگر علاقوں میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ wiki
Image caption پانی نے محکمے کی وزیر اُوما بھارتی کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے

ماحولیات کے ماہرین نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ایک دوسری ماحولیاتی آفت جنم لےگی لیکن ملک کی سپریم کورٹ نے اس پر عمل در آمد کا حکم دے دیا ہے۔

اوما بھارتی کا کہنا تھا ’دریاؤں کو آپس میں جوڑنے کا یہ منصوبہ ہمارا اولین ایجنڈا ہے اور ہمیں اس کے لیے لوگوں کی حمایت حاصل ہے اور ہم اسے جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ پانچ مقامات پر کام جاری ہے اور اترپردیش اور مدھیہ پردیش میں دریاؤں کا پہلا رابطہ جلد کھول دیا جائے گا۔

اوما بھارتی کے مطابق 1947 میں ملک کی آزادی کے بعد سے ملک میں دریاؤں کے رابطے کا یہ پہلا منصوبہ ہے۔

ان کے مطابق آبپاشی اور پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے بھی آئندہ برسوں میں منصوبے بنائے جائیں گے اور یہ طویل المدتی عمل ہے۔

Image caption شدید متاثرہ علاقوں میں ٹرین سے پانی پہنچایا جا رہا ہے

گذشتہ دو برس سے برے مون سون کے باعث انڈیا کو خشک سالی کا سامنا ہے۔

اس کی 29 ریاستوں میں سے نصف کو خشک موسم اور پانی کے بحران کا سامنا ہے۔ دہلی کی حکومت پانی کی ٹرینیں متاثرہ علاقوں میں بھیج رہی ہے۔

انڈیا میں برسوں بعد پانی کا اس قدر بحران آیا ہے۔ یہاں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے۔

اُوما بھارتی کا کہنا ہے کہ ’ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پانی کا بحران آئندہ بھی رہے گا۔لیکن اس منصوبے کے ذریعے ہم لوگوں کی مدد کے قابل ہوں گے۔‘

ان کے بقول ’لوگوں نے اس منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے اور وہ خوشی خوشی نقل مکانی کو تیار ہیں۔‘

Image caption انڈیا میں اس وقت خشک سالی سے کم سے کم 33 کروڑ افراد خشک سالی سے متاثر ہیں

جنوبی ایشیا میں ڈیمز، دریاؤں اور لوگوں کے لیے کام کرنے والے ادارے کے اہلکار ہیمانشو ٹھکر کا کہنا ہے ’یہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں تو ناممکن ہے کیونکہ دریاؤں کے بہاؤ کا کیا ہوگا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’یہ منصوبہ اس سوچ پر بنایا گیا ہےکہ خشک علاقوں میں پانی پہنچایا جائے لیکن اس بارے میں کوئی قابلِ ذکر تحقیق نہیں ہے کہ کن علاقوں میں پانی زیادہ ہے اور کن میں کم ہے۔‘

حکومت کے مطابق اس منصوبے سے 35000 ہیکٹر رقبے کو آبیاری ملے گی جبکہ 34000 میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہو گی۔

اوما بھارتی کے بقول بی جے پی نے 1990 کی دہائی میں بھی اس منصوبے کے لیے مہم چلائی تھی۔

اسی بارے میں