زیکا وائرس یورپ میں بھی پھیلنے کا خدشہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption زیکا وائرس کو بچوں میں بڑھتی ہوئی اعصابی خرابی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ زیکا وائرس رواں موسم گرما تک یورپ میں پھیل سکتا ہے تاہم اس وبا کے پھیلنے کا امکان نچلے درجے سے معتدل ہے۔

اس وائرس کا خطرہ ان علاقوں میں زیادہ ہے جہاں ایڈیز مچھر اس وائرس کو پھیلائیں، جیسے کہ روس میں بحیرہ اسود کا ساحل، جارجیا اور جزیرہ مادیعیرا ہیں۔

جن ممالک میں اس وائرس کا خطرہ معتدل ہے ان میں فرانس، سپین، اٹلی اور یونان شامل ہیں جبکہ برطانیہ میں وائرس کا خطرہ کم ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے کے تاحال کوئی سفری تدابیر جاری نہیں کی ہیں۔

٭ ’برازیل میں زیکا وائرس سے نوازئیدہ بچوں میں اموات کے شواہد‘

٭ زیکا وائرس سے خطرناک اعصابی خرابی کا خطرہ

٭ یورپ میں حاملہ خاتون کے زیکا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق

عالمی ادارۂ صحت نے ان تمام ممالک سے کہا ہے کہ وہ مچھروں کی افزائش نسل کے مقامات کو ختم کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کے تمام لوگوں کو خصوصاً حاملہ خواتین کو اس بیماری کے ممکنہ مضر اثرات کے بارے میں معلومات ہوں۔

ادارے کا کہنا ہےکہ جن ممالک میں اس وائرس کے پھیلنے کا خطرہ ہے ان میں سے زیادہ تر نئے کیسز کی تشخیص کرنے اور ان کا اعلاج کرنے کے لیے تیار ہیں جبکہ دیگر کو اس وائرس کی تشخیص کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

زیکا وائرس کو بچوں میں بڑھتی ہوئی اعصابی خرابی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے اور اب تک اس وائرس کو 50 سے زائد ممالک میں دیکھا جا چکا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی ڈاکٹر سوزینا جیکب کا کہنا ہے کہ ’ہم خاص طور پر ان ممالک سے کہتے ہیں جہاں اس وبا کا خطرہ زیادہ ہے کہ وہ زیکا وائرس کو روکنے کے لیے اپنی صلاحتیں، ترجیحات اور سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنائیں۔‘

دریں اثنا لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے پروفیسر جمی وائٹ ورتھ نے کہا ہے کہ ’یورپ میں زیکا وائرس کے پھلاؤ کا خطرہ سنجیدہ ہے اور وہاں چھٹیاں گزارے کا منصوبہ بنانے والوں کو احتیاطی تدابیر پر غور کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’زیکا وائرس لے جانے والے مچھروں میں سے ایڈیز ایجپتی صرف مادیعیرا اوربحیرہ اسود کے ارد گرد پایا گیا ہے جبکہ دوسرا مچھر ایڈیز ایلبوپکٹس بڑے پیمانے پر ہے اور زیکا منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تاہم زیادہ موثر نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں