انڈیا کا ماڈل خلائی شٹل کا کامیاب تجربہ

تصویر کے کاپی رائٹ IRSO
Image caption ایسی ہی ایک خلائی شٹل ’کولمبیا‘ کے زمین پر لوٹتے وقت تباہ ہوجانے کی وجہ سے 2003 میں ناسا کے سات خلا باز ہلاک ہوگئے تھے

انڈیا نے ایسی خلائی شٹل تیار کرنے کی راہ میں اہم کامیابی حاصل کی ہے جسے دوبارہ استعمال کیا جاسکے گا۔

خلائی تحقیق کے انڈین ادارے اسرو نے پیر کی صبح جنوبی ریاست آندھر پردیش کے سری ہری کوٹہ سٹیشن سے ایک خلائی جہاز زمین کے مدار میں بھیجا جسے بعد میں اسے کامیابی کے ساتھ خلیج بنگال میں اتارا گیا۔

یہ خلائی شٹل صرف ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرنے اور اسے آزمانے کے لیے تیار کی گئی تھی۔

امریکہ 1981 سے ایسے خلائی جہاز استعمال کر رہا تھا لیکن یہ پروگرام 30 سال کے بعد 2011 میں ترک کردیا گیا تھا۔

ایسی ہی ایک خلائی شٹل ’کولمبیا‘ کے زمین پر لوٹتے وقت تباہ ہوجانے کی وجہ سے 2003 میں ناسا کے سات خلاباز ہلاک ہوگئے تھے جن میں ہندوستانی نژاد کلپنا چاؤلہ بھی شامل تھیں۔

اسرو کے شٹل کی لمبائی ساڑھے چھ میٹر اور وزن پونے دو ٹن ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ بار بار استعمال کیے جانے لائق لانچر تیار کرنے کی راہ میں یہ پہلا اہم قدم تھا اور ’پروٹو ٹائپ‘ شٹل کی پرواز کامیاب رہی لیکن ایسے لانچر کو حتمی شکل دینے یا باقاعدہ استعمال کرنے میں ابھی دس سے پندرہ سال لگیں گے۔

اسرو کے مطابق سیٹلائٹس اور راکٹوں کو خلا میں بھیجنا انتہائی مہنگا کام ہے، اس لیے ایسے راکٹ لانچر تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جنہیں دوبارہ استعمال کیا جاسکے۔

اس سے سیٹلائٹ لانچ کرنے پر آنے والی بھاری لاگت بھی کم ہوجائے گی کیونکہ فی الحال سیٹلائٹ لانچ کرنے والے راکٹ دوبارہ استعمال نہیں کیے جا سکتے۔

اسرو کے مطابق مستقبل میں کوشش یہ ہوگی کہ اس خلائی شٹل کو ایک ہوائی جہاز کی طرح زمین پر اتارا جاسکے۔

اندازوں کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً سو کروڑ روپے خرچ ہوں گے جو خلائی ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بہت کم ہے۔

دو نجی امریکی کمپنیاں بھی اسی طرح کے پرایجیکٹس پر کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ جاپان، یورپی ِخلائی ایجنسی اور روس بھی دوبارہ قابل استعمال خلائی شٹل بنانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے مارکیٹ میں آنے کے بعد خلائی مشنز پر آنے والی لاگت دس گنا تک کم ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں