چینی پانچ ہزار سال قبل سے بیئر بنا رہے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Other

ایک نئی تحقیق میں اس بات کا خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چین میں شراب نوشی کرنے والے افراد پانچ ہزار سال قبل سے بیئر بنا رہے تھے۔

یہ تحقیق امریکی اور چینی تحقیق دانوں کی ٹیم نے کی ہے۔ ان کو جو، باجرا، اناج اور ٹیوب کے آثار ملے ہیں۔

یہ آثار ان مٹی کے برتنوں سے ملے ہیں جو چین کے جنوبی صوبے شانشی سے 10 سال قبل دریافت ہوئے تھے۔

یہ چین میں بیئر بنانے کی سب سے قدیم دریافت ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بییر بنانے کا طریقہ کافی ثقیف تھا۔

یہ تحقیق نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئی ہے۔

اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امکان ہے کہ باجرے کو پہلے بیئر بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other

مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے 2004 سے 2006 کے درمیان کھدائی میں ملے تھے۔ تاہم ان کا معائنہ 2015 میں امریکہ کی سٹینفرڈ یونیورسٹی میں کیا گیا۔

اس معائنے میں چینی سائنسدانوں کا یہ خیال ثابت ہوا کہ یہ برتن بیئر بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔

کھدائی کے دوران چولھے بھی ملے جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ اناج کو گرم اور پیسنے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔

اس کے علاوہ زیر زمین جگہیں بھی دریافت ہوئیں جہاں بیئر کو ٹھنڈا کیا جاتا تھا۔

اس تحقیق کے سربراہ اور سٹینفرڈ یونیورسٹی کے جیاجنگ وینگ نے بی بی سی کو بتایا ’جو کی دریافت بہت دلچسپ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Other

ان کا مزید کہنا تھا ’بیئر بنانے کی ترکیب سے ظاہر ہے کہ یہ چین اور مغرب کا امتزاج تھا۔ یعنی مغرب کی جو اور باجرا اور ٹیوب چین کے۔‘

اس نئی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چین میں لوگوں نے بیئر اسی وقت پینی شروع کی جب قدیم مصر اور ایران میں شروع کی گئی۔

لیکن قدیم بیئر کا ذائقہ کیسا تھا یہ ایک معمہ ہی رہے گا کیونکہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان کو یہ تو معلوم ہے کہ بیئر بنانے میں کیا کچھ استعمال ہوتا تھا لیکن کس مقدار میں ہوتا تھا وہ نہیں معلوم۔

اسی بارے میں