شمسی توانائی سے چلنے والا طیارہ پینسلوینیا پہنچ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پیکارڈ اور بورش برگ آئندہ دنوں میں نیویارک پہنچنے کی کوشش کریں گے

دنیا کے گرد چکر لگانے کے لیے کوشاں سولر امپلس نامی بغیر ایندھن کے چلنے والے طیارہ 17 گھنٹے کی پرواز کے بعد امریکی ریاست پینسلوینیا میں اتر گیا ہے۔

اس مرحلے میں طیارے نے بدھ کو ریاست اوہائیو کے شہر ڈیٹن سے پرواز کی اور 1044 کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچا۔

یہ اس طیارے کے سفر کا 13واں مرحلہ تھا جس کے دوران اس کا کنٹرول سوئس ہوا باز برٹرینڈ پیکارڈ کے ہاتھوں میں تھا۔

شمسی توانائی سے چلنے والے اس طیارے نے دنیا کے گرد چکر لگانے کی مہم کا آغاز گذشتہ سال ابوظہبی سے کیا تھا۔

اس طیارے کے دوسرے ہوا باز آندرے بورش برگ ہیں اور یہ دونوں ہوا باز اس ایک شخص کی گنجائش والے طیارے کو باری باری چلاتے ہیں۔

پیکارڈ اور بورش برگ آئندہ دنوں میں نیویارک پہنچنے کی کوشش کریں گے، جس کے بعد وہ بحرِ اوقیانوس کو عبور کرنے کی تیاریاں شروع ہو جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Solar Impulse
Image caption کم رفتار، ہلکے وزن اور 72 میٹر لمبے پروں کی وجہ سے یہ طیارہ صرف مخصوص موسمی حالات میں سفر کر سکتا ہے

دنیا کے گرد چکّر لگانے کے سفر کے تحت آخر میں اس جہاز کو ابوظہبی پہنچنا ہے جہاں سے گذشتہ مارچ میں اس نے اپنی پہلی پرواز شروع کی تھی۔

کم رفتار، ہلکے وزن اور 72 میٹر لمبے پروں کی وجہ سے یہ طیارہ صرف مخصوص موسمی حالات میں سفر کر سکتا ہے۔

شمسی توانائی حاصل کرنے کے لیے اس کے پروں پر 17 ہزار سولر سیلز نصب ہیں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے لیتھیئم بیٹریاں نصب ہیں جن کی مدد سے یہ رات کو بھی سفر کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں