خلیوں کی خاندانی تاریخ بتانے والا ’ٹیپ ریکارڈر‘ ایجاد

Image caption سائنس دانوں نے یہ تکنیک زیبرافش پر آزمائی

سائنس دانوں نے ڈی این اے ’ٹیپ ریکارڈر‘ ایجاد کیا ہے جو کسی جاندار کے جسم کے ہر خلیے کی خاندانی تاریخ بتا سکتا ہے۔

اس تکنیک کو یہ بات سمجھنے میں سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے کہ جسم کے کھربوں پیچیدہ خلیے صرف ایک بیضے سے کیسے جنم لیتے ہیں۔

ایک برطانوی ماہرِ حیاتیات نے بی بی سی کو بتایا کہ اس تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ عام، بیمار اور خراب ٹِشو کیسے تعمیر کیے جاتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کیسے کی جاتی ہے۔‘

افزائشی حیاتیات سے اس بات کا سراغ لگایا جاتا ہے کہ خلیے کی تقسیم کے ہر دور میں جینیاتی مواد کیسے کھلتا ہے، جسم کا نقشہ کیسے ترتیب پاتا ہے، اور ٹشو کیسے مخصوص کرداروں میں ڈھلتے ہیں۔ لیکن اس علم کا بڑا حصہ خلیہ بہ خلیہ تاریخ کی بجائے محض اندازوں اور تخمینوں ہی پر مبنی تھا۔

اس میدان میں اس وقت پیش رفت ہوئی جب سائنس دانوں کو جین ایڈیٹنگ کی CRISPR تکنیک کی مدد سے زندہ جانداروں کے ڈی این اے میں رد و بدل کرنے کا موقع ملا۔

امریکی شہر سیئیٹل میں واقع یونیورسٹی آف واشنگٹن کے پروفیسر جے شینڈیور کی ٹیم نے ایک مالیکیولائی ٹیپ ریکارڈ تخلیق کیا جو دراصل ڈی این اے کے ایک ٹکڑے پر مشتمل ہے جس کے اندر مختلف جگہوں پر نشانات لگے ہوتے ہیں۔ اس ٹکڑے کو جاندار کے کسی ایک خلیے کے جینوم میں داخل کر دیا جاتا ہے اور بعد میں جاندار کی زندگی کے دوران تبدیلیوں سے گزرتا رہتا ہے۔

جب خلیہ تقسیم ہوتا ہے تو یہی نشان زد ٹکڑا اس کی اگلی نسلوں کو ورثے میں ملتا ہے۔ بالغ خلیے میں اس ٹکڑے پر موجود نشانات کی تعداد اور ترتیب سے سائنس دان اس بات کا پتہ چلا سکتے ہیں کہ یہ کن مراحل سے گزر کر یہاں پہنچا ہے۔

لندن کے کرِک انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے افزائشی حیاتیات کے ماہر جیمز برسکو کہتے ہیں کہ یہ کرِسپر تکنیک کا ’تخلیقی استعمال ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’اس کے تحت خلیوں میں ایک انمٹ ’بار کوڈ‘ داخل کر دیا جاتا ہے جسے ڈی این اے وراثت کی مدد سے آگے منتقل کرتا رہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ آئندہ تمام نسلوں میں بار کوڈ شدہ خلیوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔‘

Image caption زیبرافش کا جنین۔ اس تحقیق سے مختلف شعبوں میں تحقیق میں مدد ملے گی

سائنس دانوں نے یہ تکنیک زیبرا مچھلی پر آزمائی۔ اس سے انھیں معلوم ہوا کہ وہ بالغ مچھلی میں لاکھوں خلیوں کے ارتقا کا مکمل نقشہ بنا سکتے ہیں۔

پروفیسر شینڈیور نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم انفرادی اعضا، مثلاً بائیں آنکھ، دائیں آنکھ، گلپھڑے یا دل کا مشاہدہ کر سکتے ہیں، اور ہمیں معلوم ہوا کہ حیرت انگیز طور اکثر اعضا صرف گنے چنے خلیوں سے تخلیق کیے جاتے ہیں۔‘

مثال کے طور پر ایک ہی مچھلی کے اندر خلیوں کی ہزار سے زیادہ نسلیں پائی جاتی ہیں، لیکن ان میں سے صرف پانچ قسم کے خلیوں ہی سے خون کے بیشتر خلیے بنتے ہیں۔

جیمز برسکو کو بھی یہ بات غیرمعمولی لگی: ’یہ بات حیرت انگیز ہے کہ ایک عضو میں پایا جانے والا بارکوڈ کم ہی کسی اور عضو میں پایا جاتا ہے۔ ابتدائی جنین میں خلیے بہت متحرک ہوتے ہیں اور توقع تھی کہ ہمیں زیادہ تنوع نظر آئے گا۔ اس کی وجہ ’بانی خلیوں‘ کی غیرمتوقع طور پر کم تعداد ہے۔‘

اس تکنیک سے بیمار خلیوں پر بھی تحقیق کی جا سکتی ہے۔ایلکس شائر نے بی بی سی کو بتایا: ’ہماری تحقیق کینسر کے خلیوں کی نشو و نما کے بارے میں بھی بتا سکتی ہے کہ ایک ہی رسولی کے اندر پائے جانے والے خلیوں کا آپس میں کیا تعلق ہے، اور کینسر کے جسم میں پھیل جانے پر جو اضافی رسولیاں بنتی ہیں ان کا ابتدائی خلیوں کے ساتھ کیا رشتہ بنتا ہے۔‘

اسی بارے میں