ایم ایس کا جین موروثی ہوتا ہے: تحقیق

تصویر کے کاپی رائٹ science photo library

سائنسدانوں نے پتہ چلا لیاہے کہ اعصابی بیماری ملٹی پل سیکلوراسس (ایم ایس) کا باعث بننے والا جین موروثی ہوتا ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔

ملٹی پل سیکلوراسس ہر ہزار اشخاص میں سےایک کو لاحق ہوتی ہے۔

کینیڈا کی یونیورسٹی آف کولمبیا نےسینکڑوں ایسے خاندانوں کا جینیاتی مطالعہ کیا جو اس بیماری کانشانہ بن چکے ہیں۔تحقیق کارروں کو دو خاندانوں کے افراد میں ایسے جین ملے جو تیزی سے ایم ایس میں تبدیل ہو رہے تھے۔

ایم ایس جین سے متاثرہ ستر فیصد خاندانوں کے افراد اس بیماری سے متاثر ہوئے۔

ماہرین کو ہمیشہ سے شبہہ تھا کہ ایم ایس کی بیماری وجہ جینیاتی خرابی ہے لیکن سائنسدانوں کا خیال تھا کہ اس بیماری کی وجہ صرف ایک جین نہیں بلکہ جینز کا ایک مجموعہ ہوتا ہے جو اردگرد کے ماحول سے بھی متاثر ہوتا ہے۔

اس نئی دریافت سے بیماری کو سکرینگ کے ذریعے پتہ چلانے اور اسے کنٹرول کرنے میں مدد مل سکے گی۔

تحقیق کارروں کا کہنا ہے کہ ایم ایس بیماری کے لاحق میں دوسرے عوامل بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن یہ بیماری زیادہ تر نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔

ایم ایس ایسی اعصابی بیماری ہے جو دماغ، پٹھوں اور اعصاب کو نشانہ بناتی ہے۔ ایم ایس کی بیماری میں مبتلا شخص کے پٹھوں کی حرکت مشکل ہو جاتی ہے، بدن کا توازن خراب ہو جاتا ہے اور نظر پر اثر پڑتا ہے۔ یہ مرض لاعلاج ہے، تاہم دواؤں سے اس کے پھیلنے کی رفتار کو سست کیا جا سکتا ہے۔

اس مرض کا حملہ اعصاب کے گرد باریک حفاظتی جھلی مائِلن پر ہوتا ہے جس سے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے۔ ایم ایس کے مریضوں کی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نظر ختم ہو جاتی ہے اور وہ اعصاب کےنارکاہ ہونے کی وجہ سے گوشت پوست کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔

ایم ایس کی بہت سی اقسام ہیں۔ سب سے عام قسم وہ ہے جس میں مرض کی علامات نمودار ہو کر غائب ہو جاتی ہیں اور پھر دنوں، ہفتوں یا مہینوں کے بعد دوبارہ لوٹ آتی ہیں۔

تحقیق کار ڈاکٹرکارلس ولا رانو گال نے کہا:’ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے ، بہت سے ٹیسٹ ہونا باقی ہیں، لیکن اگر ہم تجرباتی دوائیوں سے اس عمل کو روکنے سے میں کامیاب ہوگئے تو اس سے بہت بہتری ہو سکتی ہے ۔‘

اسی بارے میں