سرطان کا علاج ’نئے عہد‘ میں داخل ہو رہا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ SPL

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سرطان کا علاج انفرادی طب کے ایک ’نئے عہد‘ میں داخل ہو رہا ہے جہاں ہر مریض کو اس کی رسولی کی کسی کمزوری کو ہدف بنانے والی مخصوص ادویات دی جائیں گی۔

امیریکن سوسائٹی آف کلینیکل آنکالوجی کی کانفرنس میں خاص موضوع انفرادی علاج تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ رسولی کو سمجھنے میں ’حیرت انگیز‘ پیش رفت سے نئے علاج کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔

انفرادی علاج کی مثال ایسی ہے جیسے کرکٹ کھیلتے وقت ہر مدِمقابل کے خلاف ایک ہی ٹیم نہ کھلائی جائے بلکہ حریف کی خامیوں اور خوبیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے اور پِچ اور موسم کی صورتِ حال کے مطابق بہترین ٹیم منتخب کی جائے جو اس ٹیم کے خلاف مخصوص حکمتِ عملی کے تحت کھیلے۔

سرطان کے خلیے جسم کے عام خلیے ہوتے ہیں جن کے ڈی این اے میں گڑبڑ پیدا ہو جاتی ہے اور وہ قابو سے باہر ہو پھیلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کیموتھیراپی اور ریڈیو تھیراپی سرطانی خلیوں کے ساتھ ساتھ صحت مند خلیوں کو بھی مار ڈالتی ہیں، جن کی وجہ سے شدید مضر اثرات سامنے آتے ہیں۔

تاہم انفرادی علاج کی مدد سے ہر مریض کی رسولی کا تجزیہ کیا جاتا ہے، اس میں وہ مخصوص خرابی تلاش کی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ رسولی بنی اور پھر صرف اسی خرابی کو نشانہ بنانے والی ادویات دی جاتی ہیں جو رسولی کو تباہ کر دیتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یہ تصور نیا نہیں ہے۔ چھاتی کے سرطان کی مریضاؤں میں اب بھی علاج سے پہلے رسولی کی نوعیت کے مطابق ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔

تاہم جینیاتی سائنس میں انقلاب کی وجہ سے سائنس دانوں کو موقع مل گیا ہے کہ وہ رسولی کے بگڑے ہوئے ڈی این اے کا آسانی سے تجزیہ کر سکتے ہیں، جس سے انفرادی علاج کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

کینسر ریسرچ یوکے کے پروفیسر پیٹر جانسن کہتے ہیں: ’یہ خیال نیا نہیں ہے کہ صرف سرطانی خلیوں کو ہدف بنایا جائے، جو چیز نئی ہے وہ اس عمل کے بارے میں ہماری تفہیم کی گہرائی ہے۔

’میرا خیال ہے کہ یہ تفہیم کا نیا عہد ہے اور اس کے پیچھے ٹیکنالوجی میں آنے والی تبدیلیاں ہیں جنھوں نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم سرطانی خلیوں کے جینیاتی کوڈ اس قدر تفصیل سے سمجھ سکیں جس کے بارے میں آج سے 15 یا 20 سال قبل سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔‘

یہ سرطان کے بارے میں دنیا کی سب سے بڑی کانفرنس ہے جس میں 30 ہزار سے زائد ڈاکٹر اور سائنس دان شرکت کر رہے ہیں۔

کانفرنس کے دوران یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی ڈاکٹر ماریا شواڈرلے نے 346 تجربات کے اعداد و شمار پیش کیے جن میں 13 ہزار سے زائد مریضوں نے حصہ لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ان میں سے 58 تجربات میں انفرادی علاج کا طریقہ اختیار کیا گیا تھا۔ جن تجربات میں رسولی کی کمزوری کے مطابق ادویات دی گئی تھی ان میں سے 31 فیصد مریضوں میں رسولی سکڑ گئی، جب کہ جہاں ایسا نہیں کیا وہاں صرف پانچ فیصد مریضوں میں ایسا ہوا۔

ڈاکٹر شواڈرلے نے کہا کہ یہ نتائج غیرمعمولی ہیں۔

انفرادی علاج کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ ریڈیو تھیراپی اور کیموتھیراپی کے مقابلے اس کے بہت کم مضر اثرات ہوں گے۔

اسی بارے میں