ڈپریشن کے علاج میں مثبت پیشرفت

Image caption وہ مریض جن کا ٹسٹ رزلٹ مثبت آتا ہے، انہیں شروع سے فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

برطانوی سائنسدانوں نے ایک ایسا بلڈ ٹسٹ ایجاد کیا ہے جس سے کہ ڈاکٹر ڈپریشن کے مریضوں کو ان کے لیے سب سے بہتر دوا تجویز کر سکیں گے۔

اب تک ڈاکٹرز ’ٹرائل اور ایرر‘ یا تجربے پر اکتفا کرتے آئے ہیں۔ یعنی ڈپریشن کے مریضوں کو دوا تو دے دی جاتی ہے لیکن دوا کےاثر کا دار و مدار چانس پر ہی ہوتا ہے۔ اور اس ڈپریشن کے لیے تجویز کردہ تقریباً آدھی سے زیادہ دوائیں مؤثر ہی ثابت نہیں ہوتیں۔

کنگز کالج سے تعلق رکھنے والے تحقیق دانوں کے مطابق مریض کا بلڈ گروپ معلوم کرنے سے اسے ڈپریشن کی وہ دوا دی جا سکتی ہے جس سے اس مریض کو آفاقہ ہو سکے۔

وہ مریض جن کا ٹیسٹ رزلٹ مثبت آتا ہے، انہیں شروع سے فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

Image caption ڈاکٹر کا خیال ہے کہ ڈپریشن کے مریضوں کو جسمانی اور سماجی طور پر خود کو مصروف رکھنا چاہیے

اب تک تحقیق کاروں نے ڈپریشن کے شکار 140 مریضوں کا ٹیسٹ کیا ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق عملی زندگی میں کتنی مؤثر ثابت ہو گی اس کے لیے انہیں اس ٹرائل کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینی ہو گی۔

اس بلڈ ٹیسٹ کے بارے میں تفصیل انٹرنیشنل جرنل آف نیورو سائیکو فارماکولوجی میں کئی برسوں کی تحقیق کے بعد دی گئی ہے۔ اس ٹیسٹ میں جسمانی سوزش پیدا کرنے والے دو مرکبوں ’مائیکروفیج مائیگریشن انہیبیٹری فیکٹر‘ اور ’انٹرلیوکن- آئیبیٹا‘ کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جن مریضوں میں ان مرکبات کا لیول زیادہ ہو، ان پر ڈپریشن کی عام دوائیں ’ایس ایس آر آئی‘ وغیرہ اثر نہیں کرتیں۔

اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر کارمین پیریینٹی کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ سے حاصل ہونے والی ان معلومات سے ڈپریشن کے شکار مریضوں کو صحیح دوا دینے میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔

Image caption ڈپریشن کا شکار لوگ اپنے موڈ کو بہتر کرنے کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کے ایک تہائی مریضوں میں شاید یہ مرکبات موجود ہوں گے اور اسے لیے ہم ان مریضوں کو سخت علاج کروانے کی حوصلہ افزائی کریں گے۔‘

ڈپریشن کی دوائیں عمومی طور پر تو محفوظ سمجھی جاتی ہیں لیکن ان کے منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

اور اسے لیے پروفیسر کارمین پیریینٹی کا کہنا ہے کہ اگر ضروری نہیں تو ان کی کوشش ہو گی کہ مریض کو دوا ہی نہ دی جائے لیکن اگر ضرورت ہے تو پھر وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

ان کا خیال ہے کہ جسمانی سوزش، ذہنی تناؤ کا نتیجہ ہوتی ہے اور سوزش کی کیفیت ڈپریشن کے علاج میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔

جسمانی سوزش اصل میں اس حیاتیاتی عمل میں مداخلت کرتی ہے جو کہ ڈپریشن کی ادوایات کے اثر کے لیے ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption این ایچ ایس کی گائیڈ لائنز کے مطابق ڈپریشن میں ادویات سے بھی افاقہ تو ہو سکتا ہے لیکن دواؤں کے ساتھ ساتھ تھراپی بھی کرنی چاہیے۔

پروفیسر پیریینٹی اور ان کی ٹیم اب اس پر کام کر رہی ہے کہ کیا مریضوں کو ڈپریشن اور سوزش کے علاج کی ادویات ایک ساتھ دینا زیادہ موثر ثابت ہو گا؟

لیکن ماہرین سمجھتے ہیں کہ ڈپریشن کے علاج کے لیے صرف ادویات ہی واحد سہارا نہیں۔

ذہنی صحت کی چیریٹی ’مائینڈ‘ سے وابستہ سٹیفن بکلی کہتے ہیں کہ ذہنی امراض میں مبتلا مریضوں کا علاج ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتا ہے، لیکن اہم یہ ہے کہ لوگوں کو یہ علم ہو کہ ان کے لیے کونسا علاج زیادہ بہتر ثابت ہو سکتا ہے، ادویات یا تھراپی اور یا کہ دونوں۔

ذہنی امراض کی ایک اور چیریٹی ’سین‘ سے وابستہ مرجوری والس کہتے ہیں کہ ذہنی امراض کے میدان آگے کی طرف دلچسپ قدم یہ ہوگا کہ ڈپریشن کے ان مریضوں کا علاج کیا جا سکے جن پر دوائیں اثر نہیں کرتیں۔‘

ڈپریشن کا علاج

آپ اپنے موڈ کو بہتر کرنے کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر کا خیال ہے کہ ڈپریشن کے مریضوں کو جسمانی اور سماجی طور پر خود کو مصروف رکھنا چاہیے۔

وہ لوگ جو ڈپریشن میں مبتلا ہیں ان سے بات کر کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

این ایچ ایس کی گائیڈ لائنز کے مطابق ڈپریشن میں ادویات سے بھی افاقہ تو ہو سکتا ہے لیکن دواؤں کے ساتھ ساتھ تھراپی بھی کرنی چاہیے۔

ان تھاریپیز میں منفی خیالات پر قابو پانے اور اپنے حالات کو بہتر سمجھنے کی تھراپی شامل ہے۔

اسی بارے میں