بونوں یا پستہ قد انسانوں کی باقیات

تصویر کے کاپی رائٹ KINEZ RIZA
Image caption محققین اس دلیل کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے پاس موجود معلومات ناکافی ہیں

سائنس دانوں کو انسانوں سے مماثلت رکھنے والی مخلوق جسے ’دی ہابٹس‘ یا بونوں کا نام دیا جاتا ہے کی باقیات انڈونیشیا کے جزیرے سے حاصل کرنے کے بعد ان پر تحقیق کی ہے۔

یہ باقیات سات لاکھ سال قبل کی ہیں جو انڈونیشیا میں فلوریس شرینک نامی جزیرے سے ملے ہیں۔

یہ باقیات کم ازکم ایک بالغ اور دو بچوں کی ہیں جو اتنے ہی چھوٹے یعنی پستہ قد ہیں جتنے کے ان کے والدین تھے۔

میگزین جنرل نیچر میں چھپنے والے پیپر میں حالیہ تحقیق کو بیان کیا گیا ہے۔

بونوں کی دریافت فلوریس کے ایک غار میں آج سے بارہ سال قبل ہوئی تھی۔ جن کا قد صرف ایک میٹر ہے۔

ابتدا میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ 12 ہزار سال قبل بستے تھے تاہم بعد میں کیے جانے والے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ان کا وجود پانچ سے چھ لاکھ سال قبل تھا۔

ڈاکٹر ون ڈین برگ جو کہ یونیورسٹی آف ولونگونگز کے آثارِ قدیمہ کے شعبے سے وابستہ ہیں نے اس تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ پوری ٹیم بالغ شخص کے ملنے والے جبڑے کے چھوٹے سائز پر حیران تھی۔

’ہم یہ توقع کر رہے تھے کہ ہم سائز میں اس سے کچھ بڑا دریافت کریں گے جو موجودہ آبادی کے حقیقی اجداد ہیں مگر ہم نے دیکھا کہ یہ اگرچہ بونوں سے زیادہ نہیں مگر تھے چھوٹے۔‘

’ارتقا کی رفتار کچھ زیاد ہی لگتی ہے تاہم دوسرے جزیروں سے تقابل کے لیے ہمارے پاس انسانوں یا ان کے اجداد کے اس طرح قد گھٹنے کی کوئی مثال موجود نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ JAVIER TRUEBAMSFSCIENCE PHOTO LIBRARY
Image caption یہ باقیات کم ازکم ایک بالغ اور دو بچوں کی ہیں

مگر ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ وہ اس جزیرے تک پہنچے کیسے؟

اس زمانے میں کشتی بنانا اور پھر تیر کر جاوا سے فلوریس پہنچنا اتنا آسان نہیں ہو سکتا تھا۔

ماہرین کے مطابق ایک امکان یہ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی بڑی لہر کے ساتھ بہہ کر وہاں پہنچے ہوں۔

نیچرل ہسٹری میوزیم لندن سے وابستہ پروفیسر کرس سٹرنگر کا کہنا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ 10 لاکھ سال قبل ہتھیار بنانے والوں کے قد کتنے تھے۔اور ابھی ہمارے پاس ان کی باقیات بھی نہیں ہیں، دوسرے ہم ابھی وثوق سے یہ بھی نہیں کہ سکتے کہ دس لاکھ قبل کے جو ثبوت ملے ہیں وہ اس جزیرے پر آنے والے پہلے انسانوں کے ہی تھے۔

محققین اس دلیل کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے پاس موجود معلومات ناکافی ہیں۔ایک جبڑے کی ہڈی کا حصہ اور تھورے سے دانت ہیں۔

مگر آسٹریلیا کی گرفتھس یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر یڈم برم کہتے ہیں کہ ٹیم کو امید ہے کہ وہ ایک مکمل تصویر حاصل کرنے کے لیے مزید باقیات کی تلاش کرے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اس جزیرے پر سب سے پہلے کس انسان نے قدم رکھا تھا۔

ڈاکٹر ون ڈین برگ کہتے ہیں کہ سنہ 2004 میں جس گروہ کی دریافت ہوئی تھی اس کے بارے میں یہ امکان ختم ہو گیا ہے کہ وہ بیماری کی وجہ سے پستہ قد رہ گئےتھے۔