موبائل ایپس سے جانوروں کو پریشانی

جنوبی افریقہ میں نیشنل پارٹی کے نگران حکام نے کہا ہے کہ موبائل فون اپلیکیشنز جو جانور دیکھے جانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں وہ تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔

جنوبی افریقہ نیشنل پارک کے حکام نے کہا ہے کہ ان ایپس کی وجہ سے پارکوں میں افرا تفری، بھگدڑ اور ہجوم میں اضافہ ہوتا ہے جو اکثر جانوروں کی ہلاکتوں کا باعث بھی بنا ہے۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ لوگوں کی طرف سے بے شمار شکایات کے بعد وہ ان ایپس پر پابندی عائد کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

جنوبی افریقہ نیشنل پارک کے ایک اعلیٰ اہلکار ہپیلو سیلو نے کہا کہ ٹیکنالوجی اتنی آگے بڑھ رہی ہے اور لوگ اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ مسئلہ یہاں یہ ہے کہ جانور کو دیکھنے کے اس مشغلے کے اصولوں کو یہ ایپس پامال کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ مہمانوں یا سیاحوں کی اکثریت پارک میں اطمیان سے گھومنے اور اس دوران جانور دیکھنے کے تجربے سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔

پارک کے حکام اس بات پر متفق ہیں کہ ان موبائل فون ایپس کا استعمال ذمہ دارانہ سیاحت کے اصولوں کے منافی ہے اور اسی لیے وہ ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے یہ لوگوں میں تجسس بڑھا کر انھیں قوانین توڑنے پر اکسانے کا باعث بنتے ہیں۔

مس سیلو نے کہا کہ جب سے ان ایپس کا استعمال بڑھا ہے پارکوں میں سیاحوں کے درمیان دوڑ لگ جانے کی وجہ سے حادثات کی شکایات بھی ملی ہیں جن میں جانور ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ ایسا قانونی طریقہ وضع کرنے پر غور کر رہے ہیں جن سے ان کی استعمال کو کم کیا جائے۔

شیروں کی ایک ’کروگر‘ کو دیکھے جانے کی ایپس جو حال ہی میں جاری کی گئی ہے اس کے ’ گوگل پلے‘ پر اشتہار میں کہا گیا ہے آپ کو اگر پارک میں کروگر نظر آئے تو آپ اسی وقت پارک میں گھومنے والے دوسرے لوگوں کو آگاہ کر سکتے ہیں۔

اس میں مزید کہا گیا کہ آپ کو سارا دن پارک میں گھومنے کی زحمت نہیں کرنی پڑے گی جس دوران ہو سکتا ہے کہ آپ کو کوئی جانور بھی نظر نہ آئے۔ اشتہار میں کہا گیا ہے اب آپ اپنے سفاری کے دوران ہر روز پانچ بڑے اور شاندار جانوروں جن میں چیتے اور شیر شامل ہیں کو جنگل میں گھومتے دیکھ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں