چائے میں چینی سے آپ کی حیثیت کا اندازہ

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption کسی کو دودھ والی چائے پسند ہے، تو کسی کو لیمن ٹی، کسی کو سادہ چائے سے پیار ہے تو کوئی بغیر چینی والی چائے پیتا ہے

انگریزوں کو چائے بہت پسند ہے۔ کہتے ہیں کہ ہر سال برطانیہ کے لوگ تقریباً 60 ارب کپ چائے پی جاتے ہیں۔ یعنی فی کس اوسطاً 900 کپ چائے سالانہ۔

یہ اوسط بڑے بوڑھوں اور بچوں سبھی کو ملا کر بنتا ہے۔

ان میں سے کچھ چھوٹے بچے تو ایسے ہوں گے جو چائے نہیں پیتے ہوں گے۔ اب اسی سے آپ اندازہ لگا لیجیے کہ انگریز ایک دن میں اوسطاً کتنی چائے پی جاتے ہوں گے۔

کسی کو دودھ والی چائے پسند ہے، تو کسی کو لیموں والی، کسی کو سادہ چائے سے عشق ہے تو کوئی بغیر چینی والی چائے پیتا ہے۔ کچھ بھی ہو برطانیہ میں چائے خوب پی جاتی ہے۔

آج چائے انگریزوں کے رہن سہن کا اہم حصہ ہے۔ صبح کی چائے، دوپہر بعد کی چائے۔ کام سے اکتاہٹ ہونے پر ہونے والا ٹی بریک۔

لوگ لان میں بیٹھ کر سکون سے چائے کا لطف لیتے ہیں اور دفتر میں سوٹ بوٹ میں بیٹھے ہوئے بھی چائے کی چسکی لیتے ہیں۔ چھوٹے بڑے ریستورانوں، گھروں، پرتعیش ہوٹلوں میں، آپ کو چائے ہر جگہ مل جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption چائے کا ذائقہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح سے اگائی گئی ہے، پھر کس طرح اسے تیار کیا جاتا ہے اور آخر میں اسے کیسے بنایا گيا ہے

آخر چائے میں ایسی کیا بات ہے کہ انگریز اس کے اس قدر شیدائی ہیں؟ اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ جس طرح کی چائے پیتے ہیں، اس سے آپ کے کردار کے بارے میں بھی بہت سی باتوں کا پتہ چل جاتا ہے؟

چائے کا ذائقہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح سے اگائی گئی ہے، پھر کس طرح اسے تیار کیا جاتا ہے اور آخر میں اسے کیسے بنایا گيا ہے۔

چائے کے پودے کا سائنسی نام كیمیليا سائنیسس ہے۔ یہ گرم اور بارش والے علاقوں میں پیدا ہوتی ہے۔ اگر اس کے پودے سے سبز چائے تیار کی جانی ہو تو اسے سائے میں اگایا جاتا ہے۔ اس کے اوپر جالی لگانی پڑتی ہے کیونکہ سورج کی روشنی کم ہونے پر اس کی پتیاں کلوروفل زیادہ پیدا کرتی ہیں۔

گرمی کم پڑنے پر چائے کے پودے میں فالی فنال نامی کیمیائی مادہ بھی کم بنتا ہے جس سے چائے میں ہلکا کسیلا ذائقہ آتا ہے۔ بعض لوگوں کو یہ کسیلا پن پسند ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption چائے کی پتیوں اور كليوں کو توڑ کر پہلے انھیں خشک کیا جاتا ہے۔ انھیں کتنا سکھانا ہے یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کونسی چائے آپ کو تیار کرنی ہے

چائے کی پتیوں اور كليوں کو توڑ کر پہلے انھیں خشک کیا جاتا ہے۔ انھیں کتنا سُکھانا ہے یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کو کون سی چائے تیار کرنی ہے۔سبز چائے بنانی ہو تو پتیوں کو صرف ایک دن سكھا كر انھیں بھاپ میں جوش دیاجاتا ہے۔

اگر چائے کی پتیوں کو کئی روز تک سكھایا جائے، پھر انھیں ہلکا سا توڑ کر بھاپ میں ابالا جائے تو بلیک ٹی تیار ہوتی ہے۔ یہی چائے دنیا میں سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہے۔ چائے کی مجموعی کھپت کا 78 فیصد بلیک ٹی ہوتی ہے۔

جیسے جیسے لوگوں کے درمیان چائے کا شوق بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے اس کے فائدے سمجھانے کی کوششیں بھی بڑھ رہی ہے۔ مگر برسوں کی تحقیق کے بعد بھی چائے کے فائدے اور نقصان کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption جیسے جیسے لوگوں کے درمیان چائے کا شوق بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے اس کے فائدے سمجھانے کی کوششیں بھی بڑھ رہی ہے

اب سوال یہ ہے کہ انگریزوں کو چائے اتنی پسند کیوں ہے؟ اور مختلف طرح کی چائے پینے سے آپ کے اوپر کیا اثر پڑتا ہے؟

انسانی علوم کی معروف محقق کیٹ فاکس نے اپنی کتاب ’واچنگ دی انگلش‘ میں اس بارے میں بہت کچھ لکھا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ کڑک سیاہ چائے اکثر مزدور لوگ پیتے ہیں۔ جیسے جیسے آپ معاشرے کے اعلیٰ طبقے کے لوگوں کی چائے کو دیکھتے ہیں، اس کا ذائقہ ہلکا ہوتا جاتا ہے۔

اسی طرح دودھ اور چینی کا بھی چائے میں اپنا کردار ہوتا ہے۔ چائے میں چینی ڈال کر پینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ معاشرے کے نچلے طبقے سے آتے ہیں۔ یہاں تک کہ کم چینی والی چائے پینے کا مطلب بھی یہی نکالا جاتا ہے۔ چائے میں چینی ڈال کر پینے والوں کو سماج کے سب سے نچلے طبقے کا فرد سمجھا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption آپ جن چیزوں کو پسند کرتے ہیں وہ اس وجہ سے نہیں کہ وہ آپ کو پسند ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے ماحول میں وہ چیزیں گھل مل گئی ہیں

اگر آپ چائے میں دو چمچے چینی ڈالتے ہیں تو آپ مزدور طبقے سے آتے ہیں۔ بغیر چینی اور دودھ والی لیپسینگ سوچانگ چائے پینے کا مطلب ہے کہ آپ متوسط طبقے سے آتے ہیں اور اعلیٰ طبقے کے نظر آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انگریزوں میں چائے کو اتنا پسند کرنے کی تاریخی وجوہات ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ کھانے پینے کی عادات ماحول کی وجہ سے پڑتی ہیں اور وہ مختلف ہوتی ہیں۔ آپ جن چیزوں کو پسند کرتے ہیں وہ اس وجہ سے نہیں کہ وہ آپ کو پسند ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے ماحول میں وہ چیزیں گھل مل گئی ہیں۔ ویسے بہت سے لوگ نئی نئی چیزیں کھانے کی عادتیں بھی ڈال لیتے ہیں۔

کیٹ فاکس کہتی ہیں کہ چائے انگریزوں کے لیے مشکل حالات سے نکلنے کا ذریعہ ہے۔ جب بھی انگریز خود کو کسی نازک حالت میں پاتے ہیں، وہ چائے بنانے لگتے ہیں اور ایسا ان کے ساتھ اکثر ہوتا ہے۔ کئی بار چائے پیتے ہوئے نئے تعلقات بھی بنتے ہیں۔

اسی بارے میں