پتنگوں کی بڑی تعداد فصلوں کے لیے خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ .

سائنس دانوں کو معلوم ہوا ہے کہ براعظم یورپ سے برطانیہ آنے والے پتنگے وہاں بند گوبھی اور پھول گوبھی کی فصلوں کو ممکنہ طور پر ’مکمل تباہ‘ کر سکتے ہیں۔

بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق گذشتہ ہفتوں کے دوران برطانیہ میں لاکھوں کی تعداد میں براعظمی یورپ کی جانب سے پتنگے آئے ہیں۔

پتنگوں کی یہ تعداد پورے سال میں آنے والوں پتنگوں سے دس گنا زیادہ ہے۔

محققین نے پتنگوں کی اس انواع کو ’سپر پیسٹ‘ کہا ہے کیونکہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پروانے کئی کیڑے مار دواؤں کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

محققین کی جانب سے ایک الرٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔

ٹوئٹر فیڈ migrantmothUK @ کے مطابق سنیچر کی رات لیومنسٹر کے قریب دو میل تک پتنگوں کا بادل دیکھا گیا۔ اسی فیڈ پر ایک صارف نے بتایا کہ ’ایسا لگ رہا تھا جیسے آپ بارش میں گاڑی چلا رہے ہوں۔‘

اس فیڈ کے منتظم سٹیو نیش کا کہنا ہے کہ ’اس سے بھی برا ہونا ابھی باقی ہے۔‘

راتھمسٹڈ ریسرچ میں کام کرنے والے ڈاکٹر سٹیو فاسٹر نے بیان کیا ہے کہ کیسے یہ پروانے فصلوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔

’یہ موزی ٹڈیوں کی طرح بھنبھنا رہے ہیں، یہ تعداد میں اتنے زیادہ ہیں کہ بھورے بادلوں جیسے دکھائی دیتے ہیں۔‘

ڈاکٹر فاسٹر اور ان کے ساتھیوں کو پتنگوں کی اتنی بڑی تعداد کے بارے میں جمعے کو معلوم ہوا۔ اب وہ ان پتنگوں پر تحقیق کریں گے اور ایک ایسی کیڑے مار دوا بنانے کی کوشش کریں گے جسے فوری طور پر ان کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔

ڈاکٹر سٹیو فاسٹر کے مطابق اس سارے عمل میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اگر وہ کوئی موثر سپرے تلاش کر لیتے ہیں تو کسانوں کو پتنگوں کی تعداد سے تھوڑی تکلیف ہوگی، لیکن اگر کوئی موثر دوا نہ ملی تو ’پروانے ملک بھر میں بند گوبھی، گوبھی پھول اور گوبھی کے شاخ دار پُھولوں کو تباہ کر ڈالیں گے۔‘

اسی بارے میں