کافی سے کینسر ہونے کے شواہد نہیں ملے: سائنسدان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کافی سے کینسر ہونے کے خطرے پر سائنسدانوں نے نظر ثانی کی ہے اور کہا ہے کہ ٹھوس شواہد نہیں ہیں کہ کافی سے کینسر ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت سے وابستہ انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے 1991 میں کہا تھا کہ کافی سے کینسر ہوتا ہے۔

تاہم اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کافی سے کینسر ہوتا ہے یا نہیں کے حوالےسے ٹھوس شواہد نہیں ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ہاں بہت گرم مشروبات پینے سے کینسر ہونے کے امکانات ہیں۔

انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسرکا کہنا ہے کہ کیسنر ہونے کے امکانات اس وقت ہیں اگر مشروبات 65 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ گرم ہوں۔

یہ نتیجہ اس تحقیق کی بنیاد پر کیا گیا ہے جو ایران، چین اور جنوبی امریکہ میں کی گئی جہاں عام طور پر چائے 70 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر پی جاتی ہے۔

اس تحقیق سے حاصل ہونے والی معلومات کا معائنہ 23 سائنسدانوں نے کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کےمطابق کینسر ہونے کے امکانات کے حوالے سے چار درجہ بندیاں ہیں۔ کیٹیگری ون وہ ہے جیسے تمباکو نوشی جس میں کینسر ہونے کے ٹھوس شواہد ہیں اور کیٹیگری چار وہ ہے جس میں کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔

سنہ 1991 سے کافی کو کیٹیگری ٹو بی میں رکھا گیا تھا جس کا مطلب ہے کہ اس سے ممکنہ طور پر مثانے کا کینسر ہو سکتا ہے۔

نئی تحقیق کے بعد سے کافی کو کیٹیگری تین میں منتقل کر دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کے بارے میں ٹھوس شواہد نہیں ہیں۔

ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ کی ڈاکٹر ریچل تھامسن کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں چائے پینے والوں کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔

’نئی تحقیق کا یہ مطلب نہیں کہ آپ گرم مشروات نہیں پی سکتے۔ کینسر ان مشروبات سے ہوتا ہے جو بہت ہی گرم ہوں۔ اس لیے چائے یا کوئی اور گرم مشروب پینے سے قبل اس کو تھوڑا ٹھنڈا کر لیں خاص طور پر اگر آپ چائے میں دودھ نہیں ڈالتے۔‘

اسی بارے میں