آسٹریلیا کے ساحل پر کیکڑوں کا غول

تصویر کے کاپی رائٹ Sheree Marris
Image caption شیری میرس کا کہنا ہے کہ وہ پانی میں کئی سو میٹر تیرتی ہوئی گئیں لیکن کیکڑوں کا غول ختم نہ ہوا

آسٹریلوی شہر میلبرن کے قریب سمندر میں کیکڑے ایک بڑے غول کی صورت میں جمع ہو رہے ہیں۔

ہر سال آسٹریلیا کے جنوبی ساحلوں پر جیسے ہی سمندر کا پانی ٹھنڈا ہو جاتا ہے تو سینکڑوں، ہزاروں کیکڑے ہجرت کر کے یہاں آجاتے ہیں۔

سمندر سے متعلق سائنسدان شیری میرس نے پورٹ فلپ بے پر کیکڑوں کے بڑی تعداد میں جمع ہونے کی ویڈیو بنائی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sheree Marris
Image caption ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ کیکڑے ایک ساتھ زیادہ محفوظ رہ سکتے ہیں

شیری میرس نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ وہ آسٹریلیا کے جنوبی پانیوں میں جدا گانہ سمندری زندگی کے بارے میں آگاہی فراہم کرسکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کس نے سوچا ہوگا کہ آسٹریلیا کے جنوبی ساحل پر ایسا ہوگا، یہ کتنا دلکش ہے۔‘

اس رویے کی اصل وجہ تو معلوم نہیں لیکن سائنس دانوں کے خیال میں ممکنہ طور پر اس کی وجہ بالوں، یا پروں کے جھڑنے کا عمل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sheree Marris
Image caption جو کیکڑا اس غول سے جدا ہو جاتا ہے وہ انتہائی غیر محفوظ ہو جاتا ہے

جب کیکڑے نشو نما کے لیے اپنا بیرونی خول گر دیتے ہیں تو وہ بعض آبی جانوروں کا ہدف بن سکتے ہیں۔

اس لیے ایک ساتھ بڑی تعداد انھیں کسی بھی جانور کی خوراک بننے سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sheree Marris
Image caption سائنسدان کیکڑوں کے اس رویے کے بارے میں سمجھنے کے لیے معلومات جمع کر رہے ہیں

شیری میرس کا کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کے خیال میں پورٹ فلپ بے ایک غیر آباد علاقہ ہے لیکن یہ بہت ہی منفرد اور دلکش ہے۔‘

’میلبرن پانی کے اوپر جتنا خوبصورت ہے اتنا ہی پانی کے اندر بھی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Sheree Marris
Image caption شیری میرس سمندر کی شوقین ہیں اور ینگ آسٹریلین آف دا ایئر کا ایوارڈ بھی جیت چکی ہیں

اسی بارے میں