شمالی کوریا پرندوں کی ’محفوظ پناہ گاہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Adrian Riegen
Image caption کیچڑ والے علاقوں کو زراعت اور صنعتی کاموں کے لیے خشک زمین میں تبدیل کر دیا گیا

شمالی کوریا سے حاصل ہونے والی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ کیسے اس ملک کا ماحول ہجرت کر کے آنے والے پرندوں کی اقسام کو معدومی سے بچائے ہوئے ہے۔

پانچ کروڑ پرندے جن میں کونجوں سے لے کر گنگنانے والے پرندے شامل ہیں سال میں دو بار اس راستے سے سفر کرتے ہیں۔

ان میں اسی لاکھ ساحلی پرندے یا پانی یا برف پر چلنے والا (ویڈرز) ہیں۔

ان میں سے ہزراوں کے لیے بحیرۂ زرد پر شمالی کوریا کے سواحل قیام کی واحد جگہ ہیں۔

یہ تصاویر نیوزی لینڈ سے آئے ایک گروپ نے بنائی ہیں جنھوں نے اس کے لیے شمالی کوریا کی حکومت سے باقاعدہ اجازت حاصل کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Adrian Riegen
Image caption ان میں سے ہزراوں کے لیے بحیرہء ذرد پر شمالی کوریا کی ساحل قیام کرنے کی واحد جگہ ہے

اپنی دوربین، طاقتور ٹیلی سکوپ اور کیمروں کی مدد سے انھوں نے جنوبی نیم کرہ سے شمالی نیم کرہ کا سفر کرنے کے بعد قیام کرنے والے پرندوں کی گنتی کی ہے۔

شمالی کوریا کی ساحل کو ہمسایہ ممالک چین اور جنوبی کوریا کی ساحلی حدود کی وجہ سے بہت اہمیت حاصل ہے۔

یہاں کیچڑ والے علاقوں کو زراعت اور صنعتی کاموں کے لیے خشک زمین میں تبدیل کیا گیا ہے۔

ساحلی پرندوں کے ماحولیاتی ماہر رچرڈ فولر کے مطابق آج سے 50 سال قبل بحیرۂ زرد کے کیچڑ والے علاقے کا اب صرف ایک تہائی حصہ ہی باقی رہ گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Adrian Riegen
Image caption یہ تصاویر نیوزی لینڈ سے آئے ایک گروپ نے بنائی ہیں

ان کا مزید کہنا تھا کہ فلائے وے کا سب سے بڑا ساحلی پرندہ جو کہ نیچے نیچے اڑتا دکھائی دیتا ہے وہ ہے مرغابی لیکن اس گذشتہ 50 سالوں کے دوران اس کی تعداد میں بھی 80 فیصد کمی ہوئی ہے۔

کیوی برڈ نے شمالی کوریا کی مغربی ساحل پر مندوک علاقے میں دس دن گزراے۔

اپنے اس دورے کے دوران نیوزی لینڈ سے آئے پرندوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انھوں نے لَم ڈھینگ کے لیے کئی نئی بین االاقوامی سطح پر اہم مقامات کی شناخت کی ہے۔

موسم خزاں میں لم ڈھینگ تقریباً 12 ہزار کلومیٹر کا آٹھ یا نو روزہ سفر ایک ہی بار میں مکمل کرتے ہیں جبکہ دنیا کوئی بھی پرندہ بنا رکے اتنا طویل سفر نہیں کرتا۔

اسی بارے میں