سرحدی باڑوں سے جنگلی حیات کو بڑا خطرہ: تحقیق

تصویر کے کاپی رائٹ SUKHCHULUUN

ایک تازہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں وسطی اور مشرقی یورپ میں لگائی جانے والی سرحدی باڑیں وائلڈ لائف کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔

یہ تحقیق پلوس بائیولوجی نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

وسطی اور مشرقی یورپ میں تقریباً 30 ہزار کلومیٹر تک کی خاردار تاروں کی باڑیں لگائی گئی ہیں اور ان میں سے کچھ 2015 میں پناہ گزینوں کی آمد پر لگائی گئی ہیں۔

تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان باڑوں کے باعث معدومی کے خطرے سے دوچار جانور بٹ کر رہ گئے ہیں جس کے باعث ان کی شرح اموات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ان عارضی باڑوں میں سے بہت سی باڑیں مستقل ہو جائیں گی جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ حیاتیات کے بچاؤ کے لیے کام کرنے والوں نے ان باڑوں کی تعمیر کو نظرانداز کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’یقیناً کچھ باڑیں بہت اہم ہیں جو حالیہ عرصے ہی میں لگائی گئیں ہیں تاکہ پناہ گزینوں کی آمد کو روکا جا سکے‘

تحقیق کے سربراہ برطانیہ کی بینگر یونیورسٹی کے ڈاکٹر میٹ ہیورڈ نے کہا ’ہمارے خیال میں امریکہ میں 11 ستمبر کے حملوں نے اس رجحان کو پروان چڑھایا۔ جب دہشت گردی اور منشیات سمگلروں کے خطرے کو روکنے کے لیے سرحدیں بند کرنا شروع کیا گیا۔ اور حیاتیات کے بچاؤ کے لیے کام کرنے والے وائلڈ لائف کے لیے کھلی سرحدوں کی مہم چلا رہے تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’یقیناً کچھ باڑیں بہت اہم ہیں جو حالیہ عرصے ہی میں لگائی گئیں ہیں تاکہ پناہ گزینوں کی آمد کو روکا جا سکے۔‘

تحقیق میں کہا گیا ہے 25 سے 30 ہزار کلومیٹر طویل سرحدی باڑیں وسطی اور مشرقی یورپ کے کئی ممالک کو حصار میں لیے ہوئے ہیں اور ان سے جانوروں پر اثر پڑ رہا ہے۔

نومبر 2015 میں سلووینیا کی حکومت نے کروئیشیا کی سرحد کے ساتھ دھار دار باڑ لگانے کا فیصلہ کیا تاکہ مہاجرین کو ملک میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دھار دار باڑ کے جانوروں پر منفی اثرات مرتب ہوئے جن میں ریچھ، جنگلی بلے اور گیدڑ شامل ہیں۔

اسی بارے میں